اقوام متحدہ۔2نومبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ترقیاتی فنانسنگ کے ذرائع کو ایسے طریقوں سے ری ڈیزائن اور لاگو کرنے کی ضرورت ہے جو پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کے لیے پہلے سے موجود قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ نہ کریں کیونکہ بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے عثمان جدون …
بین الاقوامی ترقیاتی فنانسنگ کو ایسے طریقوں سے ری ڈیزائن اور لاگو کرنے کی ضرورت ہے جو پناہ گزینوں کے میزبان ممالک کے قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ نہ کریں، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔2نومبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ترقیاتی فنانسنگ کے ذرائع کو ایسے طریقوں سے ری ڈیزائن اور لاگو کرنے کی ضرورت ہے جو پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کے لیے پہلے سے موجود قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ نہ کریں کیونکہ بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے عثمان جدون نے سماجی، انسانی اور ثقافتی امور سے متعلق جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرینڈی کے ساتھ انٹرایکٹو بحث کے دوران کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ رعایتی قرضوں کے بجائے عطیہ دہندگان کو پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کو بروقت، متوقع ، کثیر سالہ اور شعبے کے لحاظ سے فنڈ زفراہم کرنے چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ مئی 2023 تک دنیا بھر میں 110 ملین سے زیادہ افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا کیا گیاجو یو این ایچ سی آر کی تاریخ میں جبری نقل مکانی میں اب تک کا سب سے بڑا ایک سال کا اضافہ ہے جو مہلک تنازعات کے باعث ہوا ۔
ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین اور بے گھر افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ٹرپل بحرانوں کورونا وائرس کی وبا، ماحولیاتی تبدیلی اور تنازعات نے صورتحال کو مزید خراب کیا ۔ عثمان جدون نے کہا کہ موجودہ پیچیدہ اور کثیر جہتی چیلنجز میں تحفظ کی بڑھتی ضروریات کو پورا کرنے اور پناہ گزینوں سے متعلق عالمی معاہدے سمیت تمام بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد کے ذریعے پائیدار حل نکالنے کے لیے زیادہ مضبوط اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مالی اور سکیورٹی چیلنجز کے باوجود4 دہائیوں سے زائد عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی میں بے مثال سخاوت اور مہمان نوازی کا مظاہرہ اور تحفظ و سہولت کے اعلیٰ ترین معیارات پر عمل کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 1.4 ملین سے زیادہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین اور تقریباً 9 لاکھ افغان سٹیزن شپ کارڈ ہولڈرز کی میزبانی کی ،پاکستان انہیں اپنے شہریوں کے مساوی صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرتا ہے، ان پناہ گزینوں کو سرکاری پرائمری سکولوں میں مفت داخلہ اور سکالرشپ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم تک رسائی کے ساتھ ساتھ روزگار کے کافی مواقع اور بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت بھی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں پناہ گزینوں کی مدد کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور ان اقدامات میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مالی اعانت بڑھانے کے لیے نئے شراکت داروں، ریاستوں اور اداروں تک رسائی حاصل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ ترقی پذیر ممالک محدود وسائل کے ساتھ85 فیصد پناہ گزینوں کی میزبانی کرتےہیں،یہ بوجھ مزید مشکل اور غیر متناسب ہو جاتا ہے اس لیے یو این ایچ سی آر کو اپنی عالمی آپریشنز پالیسی وضع کرتے ہوئےپناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی مقامی ضروریات کے لیے حساسیت کا احساس ہونا چاہیے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ مہاجرین کی طویل صورتحال کے لیے رضاکارانہ وطن واپسی اور اصل ممالک میں دوبارہ انضمام ہی واحد پائیدار حل ہے۔انہوں نے پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کے لیے مکمل فنڈڈ پروگرامز کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل ممالک کے لیےسرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) میں اضافہ کریں تاکہ وہ واپس آنے والوں کی مدد کر سکیں،معاش کے مواقع پیدا کرنے میں سرمایہ کاری اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے لیے پابندیاں ختم کی جائیں جیسا کہ افغانستان کے معاملے میں ہے۔








