نیویارک۔8نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریش نے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ غزہ میں محصور اور فاقہ کشی کا شکار 23 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو طبی سامان، خوراک،پینے کا پانی اور لائٹنگ سہولیات کی فراہمی کے لیے جنگ بند کی جائے۔ گزشتہ روز جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکت اور مسلسل ہونے والی انسانی تباہی جس کا تصور بھی …
اقوام متحدہ کی غزہ کے محصور اور فاقہ کشی کا شکار 23 لاکھ شہریوں کےلیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بند ی کی دردمندانہ اپیل

مزید خبریں
نیویارک۔8نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریش نے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ غزہ میں محصور اور فاقہ کشی کا شکار 23 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو طبی سامان، خوراک،پینے کا پانی اور لائٹنگ سہولیات کی فراہمی کے لیے جنگ بند کی جائے۔ گزشتہ روز جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکت اور مسلسل ہونے والی انسانی تباہی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، سے وہ انتہائی پریشان ہیں ۔ انہو نے کہا کہ غزہ میں انسانی ہمدردی بنیادوں پر جنگ بند کی جائے تاکہ یہاں محصور لاکھوں افراد کو علاج معالجے اور خوراک کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
ادھر،اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے ترجمان کرسچن لنڈمیئر نے کہا کہ غزہ میں ہر روز بدترین لگتا ہے،انہوں نے التجا کی محصور شہریوں تک رسائی کے لیے جنگ بند کی جائے۔لنڈمیئر نے بتایا کہ غزہ میں موت اور مشکلات کی سطح کا اندازہ لگانا مشکل ہے،مقامی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں روزانہ اوسطاً 160 بچے مارے جاتے ہیں اور مجموعی اموات 10,000 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اسرائیلی بمباری میں بھی تیزی آگئی ہے اور زمین پر فوجی کارروائیاں بلا روک ٹوک جاری ہیں۔لِنڈمیئر نے اصرار کیا کہ اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی اورشہری آبادی کے ساتھ ساتھ یرغمالیوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے رسائی ہے،اس مقصد کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
لنڈمیئر نے زندہ رہنے کے لیے پانی، ایندھن، خوراک اور صحت کی دیکھ بھال تک محفوظ رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے اقوام متحدہ کی طرف سے امداد لے جانے والے 500 ٹرکوں کو غزہ میں یومیہ بلا رکاوٹ اور محفوظ رسائی کے مطالبات کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ امداد کے سینکڑوں ٹرک مصرغزہ سرحد پر رسائی کے منتظر ہیں اور غزہ میں انسانی ہمدردی کے تحت لوگوں میں امدادی اشیا کی تقسیم کے لیے سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔لنڈمیئر نے یہ بھی کہا کہ انہیں ان کارکنوں پر فخر ہے جو غزہ میں صحت کے نظام کو تمام مشکلات کے باوجود جاری رکھے ہوئے ہیں،حقیقی ہیرو جو مسلسل دباؤ میں بغیر کسی توقف کے کام کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے حکومتی عہدیداروں، سول سوسائٹی، متاثرین اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں سے بات چیت کے لیے گزشتہ روز قاہرہ سے خطے کا پانچ روزہ دورہ شروع کیا ہے، عمان کے سفر سے پہلے وہ مصر غزہ سرحد پر رفح کا دورہ کرنے والے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کے ترجمان جینس لارکے نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اقوام متحدہ کو جمعرات کو پیرس میں فرانسیسی حکومت کی میزبانی میں غزہ کے شہریوں کے لیے انسانی امداد سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے اور اس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا ۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) نے گزشتہ روز کہا کہ ایک ماہ کے دوران غزہ کے دوتہائی (15 لاکھ)سے زیادہ شہری بے گھر ہوئے ہیں، ان کے پاس ضروریات زندگی اور رابطے کی سہولت تک نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 717,000 سے زیادہ لوگ فلسطین کے لئے یواین آر ڈبلیو اے کی غزہ میں قائم 149 تنصیبات میں پناہ لئے ہوئے ہیں ۔








