جنیوا۔15نومبر (اے پی پی):انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والےبین الاقوامی ادارے یورو۔میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں واقع الشفا ہسپتال کی عمارتوں کو حراست اور تشدد کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ہسپتال پر حملے کے بعد سے عمارت کے اندر سے مسلسل فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں جس سے ہسپتال میں موجود بہت سے لوگوں کے مارے …
اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد غزہ کے الشفا ہسپتال سے مسلسل فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں،یورو۔میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر

مزید خبریں
جنیوا۔15نومبر (اے پی پی):انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والےبین الاقوامی ادارے یورو۔میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں واقع الشفا ہسپتال کی عمارتوں کو حراست اور تشدد کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ہسپتال پر حملے کے بعد سے عمارت کے اندر سے مسلسل فائرنگ کی آوازیں آرہی ہیں جس سے ہسپتال میں موجود بہت سے لوگوں کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یورو۔میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج الشفا میڈیکل کمپلیکس کے اندر کسی دوسرے فریق کی موجودگی کے بغیر صورتحال کو کنٹرول کر رہی ہے،جس سے خدشہ ہے کہ اسرائیلی فوج اس کارروائی کے حوالے سے کوئی من گھڑت کہانی دنیا کے سامنے پیش کردے گی۔
ادارے نے کہا کہ الشفا ہسپتال کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے متعلق اسرائیلی الزامات کو ثابت کرنے کے لئے گھنٹوں پر محیط تلاشی کی کارروائی کی ضرورت نہیں تھی۔رپورٹ کے مطابق صحافی جہاد ابو شناب جو اسرائیل کی کارروائی کے دوران الشفا کمپاؤنڈ کے اندر تھے نے بتایاکہ ہسپتال کے کمپاؤنڈ کے اندر موجود لوگ اسرائیلی فوجی کارروائی کے باعث بے حد خوفزدہ ہیں ، ان سے نہایت بے دردی سے پوچھ گچھ اور ان کی تذلیل کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے الشفا کمپلیکس ہسپتال پر حملے سے قبل تمام منزلوں، جنریٹرز، مواصلاتی یونٹ کو نشانہ بنایا اور اب ہمارا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ۔
لوگوں کو تفتیش کے لئے مسلسل ایک فلور سے دوسرے فلور پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ الجزیرہ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ الشفا کمپاؤنڈ میں کسی بھی طرح کی کوئی مزاحمت نہیں ہورہی کیونکہ یہاں صرف ڈاکٹر ،مریض اور بے گھر افراد موجود ہیں ۔الشفاہسپتال کے ایمرجنسی روم کے ملازم عمر زقوت نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ہسپتال میں پناہ لینے والے کچھ مردوں کو حراست میں لیا اور ان پر وحشیانہ تشدد کیا ۔انہوں نے حراست میں لیے گئے افراد کو برہنہ کر کے ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج اب ہسپتال کے احاطے میں ہر عمارت کو گھیرے میں لے رہی ہے۔ ہسپتال کے صحن میں پڑی 180 سے زیادہ نعشیں خراب ہو رہی ہیں۔ صورتحال بہت خوفناک ہے، ہسپتال کے اطراف میں ہر طرف گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینک ہسپتال کے صحن میں موجود ہیں اور اسرائیلی فوجیوں نے ہسپتال میں ادویات اور طبی آلات کے گودام کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔








