اقوام متحدہ کا غزہ میں ’ہولناکی کے خاتمے‘ کے لیے جنگ بندی پر زور

ریاض۔19نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ غزہ کے فلسطینی، جن کے حقوق برسوں سے ’بڑے پیمانے پر محدود‘ ہیں، اب انہیں شدید بمباری کا سامنا ہے۔عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر وولکر تُرک نے کہا ہے کہ غزہ کو شہریوں کو جو صورتحال درپیش ہےجو رواں صدی میں شاذ و نادر ہی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے …

ریاض۔19نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ غزہ کے فلسطینی، جن کے حقوق برسوں سے ’بڑے پیمانے پر محدود‘ ہیں، اب انہیں شدید بمباری کا سامنا ہے۔عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر وولکر تُرک نے کہا ہے کہ غزہ کو شہریوں کو جو صورتحال درپیش ہےجو رواں صدی میں شاذ و نادر ہی سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ ہفتوں میں غزہ میں رہنے والا ہر 57 واں شخص یا تو ہلاک ہو گیا ہے یا پھر وہ زخمی ہے۔اقوام متحدہ کے عرب گروپ اور اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) کی درخواست پر بلائے گئے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وولکر تُرک نے کہا کہ (غزہ میں) ’تکلیف کی سطح ناقابلِ تصور ہیں۔ وہاں کی صورتحال ایک ڈراؤنے خواب جیسی ہے۔غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اسرائیلی فورسز کے حملوں میں اب تک 11 ہزار 100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں لگ بھگ چار ہزار600 بچے شامل ہیں۔

زخمیوں کی تعداد 26 ہزار سے زائد ہے جبکہ دو ہزار افراد ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں کی وجہ سے غزہ کے ہسپتالوں، سکولوں، بازاروں اور بیکریوں سمیت تمام عوامی مقامات بند ہیں اور ایسی جگہوں پر بہت سے شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

وولکر ترک نے مختلف ممالک کے سفیروں اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے سربراہوں کو بتایا کہ ایک بڑی آبادی گہرے نفسیاتی صدمے میں ہے اور خاص طور پر اس جنگ کے بچوں پر پڑنے والے اثرات بہت دوررس منفی نتائج کے حامل ہو سکتے ہیں۔انہوں نےکہاکہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے شمالی علاقوں سے نکل جانے کی ہدایات کے باوجود بے شمار شہری وہاں سے باہر نہیں جا سکتے کیونکہ مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔

اس وقت شمالی غزہ میں ہزاروں بچے، معذور، بیمار اور زخمی افراد شمال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ان علاقوں میں بھاری شلینگ کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بھی ممکن نہیں ہیں۔انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سیز فائر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف غزہ کے شہریوں میں خوراک اور ضروری امدادی سامان پہنچانے میں مدد ملے گی بلکہ اس ہولناک صورت حال سے نکلنے کا راستہ بھی پیدا ہو گا،اجتماعی سزا کے اس سلسلے کا خانمہ ہونا چاہیے۔