اقوام متحدہ۔21دسمبر (اے پی پی):بچوں کے لئے اقوام متحدہ کے فنڈ (یونیسیف)نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ غزہ میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی جاری رہی تو وہاں جلدبہت بچے بیماریوں اور پیاس کے باعث مر جائیں گے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے گزشتہ روز ایک بیان میں متنبہ کیا کہ غزہ میں مناسب مقدار میں صاف پانی تک رسائی زندگی اور موت کا مسئلہ بن …
غزہ میں پانی کی قلت سے بہت زیادہ بچے بیماریوں اور پیاس کے باعث مر جائیں گے، یونیسیف

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔21دسمبر (اے پی پی):بچوں کے لئے اقوام متحدہ کے فنڈ (یونیسیف)نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ غزہ میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی جاری رہی تو وہاں جلدبہت بچے بیماریوں اور پیاس کے باعث مر جائیں گے۔
یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے گزشتہ روز ایک بیان میں متنبہ کیا کہ غزہ میں مناسب مقدار میں صاف پانی تک رسائی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے، وہاں بچوں کو ضرورت پانی میں سے 90 فیصد پانی دستیاب نہیں،بچوں اور ان کے خاندانوں کو غیر محفوظ ذرائع سے پانی حاصل کر کے استعمال کرنا پڑتا ہے جو بہت زیادہ نمکین یا آلودہ ہوتا ہے،صورتحال جاری رہی تو آئندہ دنوں میں بڑی تعداد میں بچے بیماری اور بھوک سے مرجائیں گے۔انسانی ہمدردی کے حوالے سے یونیسیف کا یہ الرٹ 10 ہفتوں سے زیادہ عرصے تک اسرائیل کی جانب سےغزہ پر مسلسل بمباری کے بعد آیا ہے جس کے نتیجے میں 20,000 فلسطینی شہید اور 50,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ رفح گورنریٹ میں بے گھر ہونے والے بچوں کو اوسطاً صرف 1.5 سے 2 لیٹر یومیہ پانی دستیاب ہے جبکہ زندہ رہنے کے لیے کم از کم 3 لیٹر یومیہ پانی ضروری ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے کے لاکھوں افراد جن میں سے نصف بچے ہیں،کو خوراک، رہائش، ادویات اور محفوظ مقام کی شدید ضرورت ہے۔ یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ بچوں پر اس صورتحال کا اثر خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ وہ اسہال سمیت دیگر بیماریوں اور غذائی قلت کا زیادہ شکار ہیں، اس کے علاوہ خارش، جوؤں، چکن پاکس، جلد پر خارش اور شدید سانس کے انفیکشن کے 160,000 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔
کیتھرین رسل نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ تازہ ترین انسانی انتباہ غزہ کی پٹی میں جنگ روکنے کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے باعث سامنے آیا ہے تاک لوگوں کے لیے مزید امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 14 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے جبکہ پانی، علاج سہولیات اور امداد کی تقسیم کا نیٹ ورک بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔








