فیصل آباد۔ 12 جون (اے پی پی):ڈاکٹر ساجد الرحمن ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ پنجاب نے کہا کہ پاکستان ہر سال 110 ارب روپے سے زائد مالیت کی دالیں آسڑیلیا، افریقہ و دیگر ممالک سے درآمد کرتا ہے جو ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے لہٰذا پاکستان کے مشکل معاشی حالات میں دالوں کی درآمد پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کیلئے دالوں کے زیرکاشت رقبہ اور فی …
پاکستان ہر سال 110 ارب روپے سے زائد مالیت کی دالیں درآمد کرتا ہے جو ملکی معیشت پربڑا بوجھ ہے، ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ
فیصل آباد۔ 12 جون (اے پی پی):ڈاکٹر ساجد الرحمن ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ پنجاب نے کہا کہ پاکستان ہر سال 110 ارب روپے سے زائد مالیت کی دالیں آسڑیلیا، افریقہ و دیگر ممالک سے درآمد کرتا ہے جو ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے لہٰذا پاکستان کے مشکل معاشی حالات میں دالوں کی درآمد پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کیلئے دالوں کے زیرکاشت رقبہ اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے نیز ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ دالوں کے زرعی سائنسدانوں کی متعارف کردہ نئی اقسام کی کاشت سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے شعبہ دالوں کے سالانہ خریف ریسرچ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیاجس میں چیئرمین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈدالیں پنجاب،چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد، چیف سائنٹسٹ شعبہ دالیں ڈاکٹر خالد حسین، چیف سائنٹسٹ شعبہ کماد فیصل آباد ڈاکٹر محمد ظفر، پرنسپل سائنٹسٹ نایاب ڈاکٹر محمد جواد اصغر، اسسٹنٹ پروفیسر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر رابعہ فریدی، پرنسپل سائنٹسٹ حافظ سعید الرحمن، پرنسپل سائنٹسٹ شعبہ چارہ جات فیصل آباد ڈاکٹر قمر شکیل،
پرنسپل سائنٹسٹ شعبہ دالیں ڈاکٹر محمد آصف، پرنسپل سائنٹسٹ بائیو کیمسٹری ڈاکٹر ثمرین صدیق، سینئر سائنٹسٹ سائل بیکٹیریالوجی فیصل آباد ڈاکٹر ضیا چشتی، سینئر سائنٹسٹ شعبہ دالیں عامر حسین، ڈاکٹر جاوید اقبال، علی نواز،ڈاکٹر آسیہ بتول، ڈاکٹر صائمہ عارف اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن فیصل آباد محمد اسحاق لاشاری سمیت زرعی سائنسدانوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر جاوید احمد نے اجلاس میں بتایا کہ دالیں ہماری روزمرہ خوراک کا ایک اہم جزو ہیں اور غذائی اعتبار سے ان دالوں کی اہمیت انتہائی مسلمہ ہے۔
دالوں میں 20 فیصد سے زائد پروٹین ہوتی ہے اور ان میں آئرن کے علاوہ غذائی ریشہ بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ان خصوصیات کے پیش نظر ان کو گوشت کا سستا نعم البدل کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر خالد حسین نے بتایا کہ پھلی دار اجناس ہونے کی وجہ سے دالوں کے پودوں کی جڑوں میں مفید بیکٹیریا بکثرت پائے جاتے ہیں۔ دالوں کی جڑوں پر نوڈیولز بنتے ہیں جن میں موجود نائٹروجن فکسنگ بیکٹیریا فضاسے نائٹروجن کو فکس کر کے پودوں کی جڑوں کو مہیا کرتے ہیں۔
دالوں کی کٹائی کے بعد جڑیں گلنے سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ھو جاتا ہے لہٰذا دالوں کی کاشت سے زمین کی زرخیزی کو بحال رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ڈاکٹر جواد اصغر نے بتایا کہ شعبہ دالوں آری، فیصل آباد اور نایاب کے زرعی سائنسدانوں نے مشترکہ تحقیق کے ذریعے دالوں کی فی ایکڑ زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل متعدد نئی اقسام متعارف کروائی ہیں۔
حکومت پاکستان نے دالوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے چکوال اور اٹک کے علاوہ بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں دالوں کی کاشت کے فروغ کے منصوبہ کیلئے بھاری رقم مختص کی ہے۔ زرعی سائنسدانوں نے دیسی اور قابلی چنا کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کی حامل نئی اقسام کے پری بیسک بیج پنجاب سیڈ کارپوریشن کے علاوہ پرائیویٹ سیڈ کمپنیز اور ترقی پسند کاشتکاروں کو فراہم کئے ہیں ان اقسام کو زیر کاشت لا کر دالوں کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ دالیں کماد کی بہاریہ کاشت اور مونڈھی فصل میں مخلوط فصل کے طور پر بھی کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں آبپاش علاقہ جات میں وٹوں پر دالوں کی کاشت سے کاشتکار بھرپور پیداوار کے حصول سے فی ایکڑ زیادہ منافع کما سکتے ہیں۔









