پاکستان سیاحت کے شعبے میں ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے، ہائی کمشنر ملائیشیا محمد اظہر مزلان

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر محمد اظہر مزلان نے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کی صنعت میں ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے اور اس شعبے میں ملائیشیا سے تکنیکی مدد حاصل کر سکتا ہے۔محمد اظہر مزلان نے اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا نہ صرف روایتی سیاحت بلکہ مذہبی سیاحت، حلال صنعت، زرعی اور طبی …

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):پاکستان میں ملائیشیا کے ہائی کمشنر محمد اظہر مزلان نے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کی صنعت میں ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے اور اس شعبے میں ملائیشیا سے تکنیکی مدد حاصل کر سکتا ہے۔محمد اظہر مزلان نے اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا نہ صرف روایتی سیاحت بلکہ مذہبی سیاحت، حلال صنعت، زرعی اور طبی سیاحت میں بھی دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور پاکستان ملائیشیا کے تجربات سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔

ملائیشیا کے سفیر نے کہا کہ عالمی حلال انڈسٹری کی استعداد3 ٹریلین ڈالر ہے اور اس شعبے میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان وسیع تعاون اور مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے درمیانی اور طویل مدتی جامع پالیسی پر کام کرنا ہوگا جس میں برانڈنگ اور مارکیٹنگ اہم ہتھیار ہیں۔اظہر مزلان نے کہا کہ ملائیشیا کی سیاحت کے شعبے میں ترقی کوئی معجزہ نہیں ہے ، ملائشیا کی حکومت نے 1980 میں سیاحت کے شعبے کی ترقی پر کام شروع کیا تھا، مارکیٹنگ اور برانڈنگ کے لیے فنڈز مختص کیے اور اس کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حلال انڈسٹری اور سیاحت کے شعبے میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے اور پاکستان کو بین الاقوامی مارکیٹ میں اس سے بہت زیادہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون کو بڑھا کر سیاحت اور حلال انڈسٹری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت اور حلال انڈسٹری سمیت مختلف ممکنہ شعبوں میں سرمایہ کاری لانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ملائیشین ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان کا شمالی علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے جس میں دنیا کی چھ بڑی پہاڑی چوٹیاں پائی جاتی ہیں اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کا ایک بڑا حصہ بھی پاکستان میں ہے جو قدرت کا ایک شاہکار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں دو لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جو ملائیشیا کی معیشت کے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کا ایک اہم عنصر ہیں جو ملائیشیا کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اظہر مزلان نے کہا کہ پاکستانی ایک محنتی اور ذہین قوم ہے اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ پاکستان 2050 تک دنیا کی 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 240 ملین آبادی میں بہت بڑی تعداد میں نوجوان آبادی بھی شامل ہے اور ملائیشیا آسیان ممالک کے لیے پاکستان کا گیٹ وے بننے کا منتظر ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تجارت اپنی صلاحیت سے بہت کم ہے اور اس شعبے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی وزارت تجارت کے ذیلی ادارے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور ملائیشیا کی وزارت صنعت و تجارت کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے بات چیت جاری ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں اضافے کی توقع ہے۔