سرمایہ کاری اور سہولیات کے ساتھ پاک روس تجارتی روابط کے فروغ کے خواہشمند ہیں، روس کے ساتھ تجارتی تعلقات کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، عبدالعلیم خان کاپاک روس تجارتی و سرمایہ کاری فورم سے خطاب

ماسکو۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری، نجکاری و مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہےکہ سرمایہ کاری اور سہولیات کے ساتھ پاک روس تجارتی روابط کے فروغ کے خواہشمند ہیں، روس کے ساتھ تجارتی تعلقات کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، باہمی تجارت و معاشی تعلقات میں اضافہ خوش آئند ہے، پہلے پاک روس بزنس ٹو بزنس فورم کا انعقاد قابل ستائش ہے، فورم کے …

ماسکو۔1اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری، نجکاری و مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہےکہ سرمایہ کاری اور سہولیات کے ساتھ پاک روس تجارتی روابط کے فروغ کے خواہشمند ہیں، روس کے ساتھ تجارتی تعلقات کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، باہمی تجارت و معاشی تعلقات میں اضافہ خوش آئند ہے، پہلے پاک روس بزنس ٹو بزنس فورم کا انعقاد قابل ستائش ہے، فورم کے انعقاد سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو قریب لانا چاہتے ہیں، پاکستان روس کے ساتھ عوامی ، ثقافتی رابطوں اور دوطرفہ تعاون میں اضافہ کے لئے پرعزم ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاک روس دیرینہ اور کاروباری تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، توانائی، بنیادی ڈھانچہ ، ٹیکسٹائلز ، زراعت ، کان کنی، معدنیات ، ادویہ سازی، مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں جوائنٹ وینچر کے وسیع امکانات موجود ہیں ،روسی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع سے استفادہ کر سکتے ہیں ،غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل منافع جات کی بیرون ملک منتقلی کی قانونی طورپر اجازت ہے۔

ان خیالات کا اظہار عبدالعلیم خان نے منگل کو یہاں پاک روس تجارتی و سرمایہ کاری فورم کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہاکہ پاکستان روس تجارتی و سرمایہ کاری فورم میں شرکت باعث افتخار ہے، فورم میں 60 سے زیادہ پاکستانی ادارے شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان ااور روس کی بزنس ٹو بزنس فورم کا انعقاد ہو رہا ہے ۔ توقع ہے کہ اس سے پاک روس باہمی تجارت کے نئے دو ر کا آغاز ہو گا۔ فورم کا انعقاد خوش آئند ہے جس سے دونوں ممالک کے باہمی رابطوں میں وسعت اور استحکام آئے گا۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان اور روس کے دہائیوں طویل سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں۔ حکومت پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتی ہے جس کی عکاسی وزیراعظم محمد شہباز شریف اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی ملاقات سے بھی ہوتی ہے۔دونوں ممالک کے رہنما عالمی سطح پر منعقدہ کئی کثیر الملکی فورمز پر ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2024 میں آستانہ میں ان کی حالیہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر ہوئی ۔ عبدالعلیم خان نے مزید کہاکہ 18 تا 19 ستمبر کو روس کے نائب وزیر اعظم نے پاکستان کا دور ہ کیا۔ ان کے ہمراہ اعلی ٰ سطحی وفد بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ فورم کا انعقاد پاک روس دوطرفہ بہترین تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ2023 میں پاکستان اور روس کی باہمی تجارت کا مجموعی حجم 1200 ملین ڈالر تھا۔ پاکستان نے روس کو 83 ملین ڈالر کی برآمدات کیں جبکہ 900 ملین ڈالر سے زیادہ کی درآمدات کیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کو برآمد کی جانے والی بڑی پاکستانی برآمدات میں چمڑا، تیار ملبوسات، آلو، ٹیکسٹائل مصنوعات ، خواتین کے ملبوسات، چاول ، ترشاوہ پھل ، آلات جراحی اور کٹلری کی مصنوعات شامل تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے روس سے کروڈ آئل ، گندم، سبزیاں ، کوئلہ اور ایندھن کی مختلف مصنوعات درآمد کیں۔ عبدالعلیم خان نے کہاکہ روس پاکستانی برآمدات کے لئے ایک بڑی منڈی ثابت ہو سکتا ہے۔ ملبوسات ، ہوم ٹیکسٹائل ، چمڑے اور کھیلوں کا سامان ، غذائی و زرعی مصنوعات روس کو برآمد کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان آئرن اور سٹیل مصنوعات ، ہائی ٹیک مشینری و آلات ، جدید زرعی مشینری اور ٹریکٹر وغیرہ کے حوالہ سے روس کے لئے بڑی برآمدی منڈی ثابت ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ لاجسٹک سیکٹر دونوں ممالک کے باہمی تجارتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک نے زمینی راستہ سے رابطوں کے فروغ کے لئے ٹرانسپورٹیشن معاہدہ پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کی تجارت موجودہ حجم استعداد کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مملک میں مختلف شعبوں سے منسلک افراد کو قریب لانے میں یہ فورم اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک کی کاروباری اور صنعتکاری برادری باہمی اشتراک و سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو گا۔ ہماری خواہش ہے کہ روس کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھایا جائے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ فورم کے دوران بزنس ٹو بزنس رابطوں سے دونوں ممالک باہمی تعاون کے دستیاب مواقع سے استفادہ کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان میں ٹریکٹر کے کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں ۔200 ملین سے زیادہ کی آبادی کی پاکستانی مارکیٹ دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ ہے۔ خطے میں پاکستان سرمایہ کاری اور کاروبار کے لئے پر کشش مواقع اور مراعات پیش کرتا ہے۔ معیشت کے تمام شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ سرمایہ کاری سے حاصل منافع جات کی اپنے ممالک و منتقلی کی اجازت ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے سرمایہ کاری کے ترجیحی شعبہ جات میں انرجی ، انفراسٹرکچر ، ٹیلی کمیونیکیشن ، مینوفیکچرنگ ، کان کنی، معدنیات ، زراعت اور ڈیری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کی تجارت میں اضافہ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ خوراک ، فارما ، ٹیکسٹائل ، لیدر ، لاجسٹک اور انرجی کےشعبوں میں دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ تجارتی مواقع کی استعداد سےحقیقی استفادے کے لئے دونوں ممالک ٹیرف اور نان ٹیرف کی مشکلات کےخاتمہ کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس حوالہ سے دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کرنا ہو گی۔ رجسٹریشن کے عوامل میں آسانیاں لانا ہوں گی۔ ویزہ کی سہولت کو مزید آسان بنانا ہوگا جس سے کاروبار ی رابطوں اور سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان علاقائی تجارت کے فروغ کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری اور معاشی رابطوں میں اضافہ بھی ترجیحات میں شامل ہے ۔ ہم علاقائی رابطوں میں تیزتر اضافہ کے خواہاں ہیں تاکہ پاکستان کو خطے کاتجارتی و کاروباری مرکز بنایا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ روس اپنی مشرقی سرحدوں پر واقع ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ چاہتا ہے ۔ روس اس حوالہ جامع اقدامات کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورم کے شرکا سے اظہار تشکر کرتےہوئے کہا کہ فورم میں 60 سے زیادہ پاکستانی اور 100 سے زیادہ روسی اداروں کی شرکت باعث افتخار ہے۔ وفاقی وزیر نے فورم کے کامیاب انعقاد کے حوالہ سے روسی حکومت متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے بھی اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب پاکستان میں پاک روس سرمایہ کاری و تجارتی فورم کا انعقاد کیا جائےگا تاکہ مشترکہ روشن مستقبل کے خواب کو پورا کیا جاسکے۔