ریاض۔2اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے کہا ہے کہ ثقافتی سفارتکاری پاک سعودی دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا ذریعہ ہے،یہ دونوں اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نےریاض کے سالانہ کتاب میلے میں ’’ مشترکہ آوازیں : ادب اور فن ثقافت اور تفہیم کے پل طور پر ‘‘ کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن سے گفتگو …
ثقافتی سفارتکاری پاک سعودی دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا ذریعہ ہے،سفیر احمد فاروق

مزید خبریں
ریاض۔2اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے کہا ہے کہ ثقافتی سفارتکاری پاک سعودی دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا ذریعہ ہے،یہ دونوں اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نےریاض کے سالانہ کتاب میلے میں ’’ مشترکہ آوازیں : ادب اور فن ثقافت اور تفہیم کے پل طور پر ‘‘ کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن سے گفتگو کے دوران کیا۔آل پاکستان پینل میں ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر سلجوق تارڑ ، ادب فیسٹیول کی بانی ڈائریکٹر اور کراچی لٹریری فیسٹیول کی بانی امینہ سید بھی شامل تھیں۔

گفتگو کے دوران سعودی مملکت اور پاکستان کے درمیان ثقافت، تاریخ، سماجی اقدار اور مشترکہ مذہب کے حوالے سے مماثلتوں پر بات چیت کی گئی جو دونوں ممالک کو ثقافتی طور پر جوڑتے ہیں۔میلے میں سعودی نوجوانوں، ادب کے شائقین اور دیگر افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سفیر احمد فاروق نے کہا کہ ثقافتی سفارتکاری پاک سعودیہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کا اہم ذریعہ ہے، دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی وابستگی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی طور پر قریبی تعلقات ہیں لیکن ثقافتی سفارت کاری نے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا ایک نیا منظر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت خانہ اپنے 11 ثقافتی کمیشنوں کے ذریعے مملکت میں وزارت ثقافت کے ساتھ منسلک ہے اور کئی دلچسپ منصوبے پائپ لائنوں میں ہیں۔
ادب کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے سفیر سلجوق تارڑ نے کہا کہ کتابیں کسی خاص ملک کی حقیقی روح اور جوہر کو دکھانے کے ساتھ ساتھ معاشروں کو متحد کرنے والی قوت اور آئینہ کا کام کرتی ہیں۔انہوں نے عربی اور اردو میں اچھے افسانوی ادب کے معیاری تراجم کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ایک دوسرے کی مضبوط تفہیم پیدا ہو سکے۔
امینہ سید نے کہا کہ ادب اور آرٹ طاقتور ہتھیار ہیں جو دقیانوسی تصورات کو توڑنے میں مدد کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2010 میں کراچی لٹریری فیسٹیول کے آغاز کے بعد پاکستان میں اب تک 100 سے زائد ادبی میلے منعقد کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مستقبل کے تہواروں میں سعودی پبلشنگ ہاؤسز اور مصنفین کو خوش آمدید کہے گا۔بحث کا اختتام ہر پینلسٹ کے سعودی نوجوانوں کے لیے خصوصی پیغامات کے ساتھ ہوا۔








