برسلز۔18اکتوبر (اے پی پی):پہلی خلیجی و یورپی سربراہی کانفرنس بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں منعقد ہوئی ،جس میں سلامتی اور استحکام کے فروغ اور اکیسویں صدی کی سٹریٹجک شراکت داری کی تعمیر کے لیے علاقائی مکالمے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ العربیہ اردو کے مطابق سربراہی اجلاس عملی فریم ورک کے طور پر منعقد ہوا جو علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے …
برسلز میں پہلی خلیجی و یورپی سربراہی کانفرنس کا انعقاد

مزید خبریں
برسلز۔18اکتوبر (اے پی پی):پہلی خلیجی و یورپی سربراہی کانفرنس بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں منعقد ہوئی ،جس میں سلامتی اور استحکام کے فروغ اور اکیسویں صدی کی سٹریٹجک شراکت داری کی تعمیر کے لیے علاقائی مکالمے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ العربیہ اردو کے مطابق سربراہی اجلاس عملی فریم ورک کے طور پر منعقد ہوا جو علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے فریقین کے تعاون کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی تبدیلیوں کی روشنی میں یہ اجلاس دونوں بلاکس کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی سیاسی محقق منیف عماش الحربی نے کہا ہے کہ پہلی خلیجی یورپی سربراہی کانفرنس سٹریٹجک پارٹنرشپ کی جانب ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ یورپی یونین 27 رکن ممالک کے ساتھ سیاسی لحاظ سے اہم ہے جن میں سے فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ جرمنی اور اٹلی جی 7کے رکن ہیں اور سپین اور یورپی یونین بھی جی۔ 20 کے ارکان ہیں۔ مشرق وسطیٰ یا بین الاقوامی منظر نامے میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور دو ریاستی حل کو اپنانے میں یورپی یونین کے بیشتر ممالک کی مثبت موجودگی بھی اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سربراہی اجلاس کے نتائج دونوں بلاکس کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں فریقین کے لیے بہت سے اہم سیاسی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں معاون ہیں۔ مسائل کا حل تلاش کرنے سے خطے میں سلامتی اور استحکام کے حصول کی کوششوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے درمیان خلیجی یورپی سربراہی کانفرنس کے نتائج کی اقتصادی جہتوں پر عمل درآمد ایک آزاد تجارتی معاہدہ حاصل کرے گااور اس سے تجارتی تبادلے کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک ہتھیاروں کے ذرائع کو متنوع بنانے کی مستقل خواہش رکھتے ہیں ۔ بلا شبہ یہ سربراہی اجلاس دونوں بلاکس کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ کام کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے ممالک منظم اور مستقل طور پر خلیجی ممالک کی طرف سے ہتھیاروں کے ذرائع میں تنوع لانے کی خواہش پر عمل کی طرف بڑھیں گ۔ 2026 میں خلیجی یورپی سربراہی کانفرنس کے دوسرا ایڈیشن سعودی دارالحکومت ریاض میں ہو گا۔








