بھارتی سرکاری اہلکار نے سکھ علیحدگی پسند کے قتل کی منصوبہ بندی کا امریکی الزام مسترد کردیا

نیویار ک ۔21اکتوبر (اے پی پی):امریکانے بھارتی سرکاری اہلکار وکاس یادیو پر علیحدگی پسند سکھ رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات میں فرد جرم عائد کی ہے، تاہم اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یادیو نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔اردو نیوز کے مطابق 39 سالہ وکاس یادیو کے کزن ایویناش یادیو نے رائٹرز کو بتایا کہ وکاس سے جب بات ہوئی تو انہوں نے میڈیا …

نیویار ک ۔21اکتوبر (اے پی پی):امریکانے بھارتی سرکاری اہلکار وکاس یادیو پر علیحدگی پسند سکھ رہنما کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات میں فرد جرم عائد کی ہے، تاہم اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یادیو نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔اردو نیوز کے مطابق 39 سالہ وکاس یادیو کے کزن ایویناش یادیو نے رائٹرز کو بتایا کہ وکاس سے جب بات ہوئی تو انہوں نے میڈیا پر چلنے والی رپورٹس کو غلط قرار دیا ۔ایویناش یادیو دارالحکومت دہلی سے 100 کلو میٹر دور واقع اپنے آبائی گاؤں میں مقیم ہے جبکہ وکاس یادیو کے بارے میں یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ملک میں ہی موجود ہے ۔

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ وکاس یادیو انڈین خفیہ ایجنسی را کا اہلکار ہے۔دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے اور یہ کہ وکاس سرکاری ملازم نہیں رہا، تاہم خفیہ ایجنسی کا اہلکار ہونے کے حوالے سے واضح نہیں بتایا۔ریاست ہریانہ کے گاؤں پرانپورا میں رہائش پذیر وکاس یادیو کے کزن ایوناش یادیونے رائٹرز کو بتایا کہ فیملی کو اس حوالے سے معلومات نہیں کہ وکاس را کے لیے کام کر رہا تھااور نہ ہی اس نے کبھی ذکر کیا،ہمارے لیے تو وہ اب بھی سی آر پی ایف (سینٹرل ریزرو پولیس فورس) میں ہی کام کر کررہا تھا جس میں اس نے 2009 میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ایویناش یادیو نے کہا کہ نہیں معلوم کہ یادیو کہاں ہے لیکن وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ رہتا ہے جو گزشتہ سال پیدا ہوئی تھی۔بھارتی عہدیداروں نے وکاس یادیو کے ٹھکانے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارت سے وکاس کی حوالگی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

 

مزید خبریں