اسلام آباد ۔ 21 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاکستان1990ءسے لے کر2015ءتک نکاسی آب کی سہولتوں تک رسائی میں بہتری لا کر اسے 24 فی صد سے بڑھا 64 فی صدتک لانے میں کامیاب رہا ہے جبکہ بدقسمتی سے جنوبی ایشیائی خطہ میں40فی صد یعنی تقریباً ایک ارب افراد کی نکاسی آب کی سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔ انہوں نے …
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد کا واشنگٹن میں سینیٹیشن اینڈ واٹر فارآل کے اجلاس میں خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاکستان1990ءسے لے کر2015ءتک نکاسی آب کی سہولتوں تک رسائی میں بہتری لا کر اسے 24 فی صد سے بڑھا 64 فی صدتک لانے میں کامیاب رہا ہے جبکہ بدقسمتی سے جنوبی ایشیائی خطہ میں40فی صد یعنی تقریباً ایک ارب افراد کی نکاسی آب کی سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن (امریکہ) میں اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کہی۔ سینیٹیشن اینڈ واٹر فارآل کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ جنوبی ایشیاءمیں اب بھی 600ملین سے زائد افراد رفع حاجب کے لیے کھیتوں کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاءکے اکثر ممالک نے نئے ہزاریہ کی صدی کے اپنے اہداف 2015ءمیں حاصل کر لیے تاہم خطہ کے کچھ ممالک نئی صدی کے ترقیاتی اہداف برائے نکاسی آب حاصل نہیں کر سکے۔








