واشنگٹن۔3دسمبر (اے پی پی):نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے صدارت سنبھالنے سے پہلے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیل پر حملے میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو جنوری میں ان کے حلف برداری سے پہلے رہا کر دیا جانا چاہیے۔ اگر …
اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کے نتائج سنگین ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

مزید خبریں
واشنگٹن۔3دسمبر (اے پی پی):نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے صدارت سنبھالنے سے پہلے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیل پر حملے میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو جنوری میں ان کے حلف برداری سے پہلے رہا کر دیا جانا چاہیے۔ اگر ان کو 20 جنوری 2025 سے پہلے رہا نہیں کیا گیا تو مشرق وسطیٰ میں اور انسانیت کے خلاف مظالم کے ذمہ داروں کے خلاف اس کے نتائج اس قدر سنگین ہوں گے جو امریکا کی طویل تاریخ میں کبھی نہیں رہے۔
اس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو ابھی رہا کرو۔اسرائیلی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے میں یرغمال بنائے گئے تقریباً 250 اسرائیلیوں میں سے تقریباً 100 اب بھی غزہ میں موجود ہیں جبکہ ان میں سے تقریباً ایک تہائی مارے جا چکے ہیں۔واضح رہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے دوران جنگ بندی کے ایک مختصر وقفے میں تقریباً 105 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں بھی کچھ یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی وائٹ ہائوس میں واپسی سے پہلے غزہ میں جاری جنگ بند ہونی چاہیے۔دریں اثنا ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق نومنتخب صدر نے اپنے پڑوسی ملک کینیڈا کے وزیراعظم کو بھی دھمکی دی ہے کہ اگر وہ امریکا کے ساتھ تجارت اور امیگریشن کے مسائل حل نہیں کر سکتے تو اپنے ملک کو امریکی ریاست بنا دیں اور خود اس کے گورنر بن جائیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کینیڈا سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد کینیڈ اکے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے فوری طور امریکا جا کر ان سے ملاقات کی اور کہا کہ 25 فیصد ٹیرف کینیڈا کی معیشت کو تباہ کر دے گا۔
اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے آپ کا ملک اسی صورت اپنی معیشت کو بحال رکھ سکتا ہے جب وہ امریکی معیشت کو ایک سو ارب ڈالر کا نقصان پہنچائے ۔ انہوں نے مذاقاً کہا کہ اگر جسٹن ٹروڈو کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارت اور منشیات کی سمگلنگ کے مسائل کے حوالے سے ان کے مطالبات پورے نہیں کر سکتے تو وہ اپنے ملک کو امریکا کی ریاست بنا دیں اور خود اس کے گورنر بن جائیں۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈ اکے وزیر اعظم کے درمیان تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کو فریقین نے خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہونے والی ملاقات قرار دیا ہے۔








