ریاض ۔4دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ دنیا پانی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں خشک سالی کی بڑھتی ہوئی شرح بھی شامل ہے جو کہ کئی بحرانوں کا باعث بنتی ہے، ان بحرانوں میں قابل استعمال پانی کی کمی، بنجر زمین میں اضافے اور اس کے نتیجے میں انسانی زندگی اور معاشروں …
دنیا کو پانی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، سعودی عرب

مزید خبریں
ریاض ۔4دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ دنیا پانی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں خشک سالی کی بڑھتی ہوئی شرح بھی شامل ہے جو کہ کئی بحرانوں کا باعث بنتی ہے، ان بحرانوں میں قابل استعمال پانی کی کمی، بنجر زمین میں اضافے اور اس کے نتیجے میں انسانی زندگی اور معاشروں کو لاحق خطرات شامل ہیں۔اردو نیوز کی رپورٹ کےمطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض میں ون واٹر سمٹ کی افتتاحی تقریب کے موقعے پر کہا کہ ’سعودی عرب نے پانی کے شعبے میں 60 سے زیادہ ملکوں میں 200 ترقیاتی منصوبوں کے لیے چھ ارب ڈالر کے فنڈز فراہم کئے ہیں ۔
ولی شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ دنیا کو پانی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر خشک سالی کی شرح میں اضافے کے نتیجے میں انسانی زندگیوں اور معاشروں کو خطرات لاحق ہیں۔ولی عہد نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’بین الاقوامی برادری کی کوششیں پانی کے چیلنجوں سے نمنٹے میں معاون ثابت ہوں گی۔ ہمیں اس شعبے میں مطلوبہ اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔شہزادہ محمد بن سلمان نے آبی ذرائع کی پائیداری کے لیے مشترکہ منصوبے تیار کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ورلڈ واٹر کونسل کے تعاون سے ورلڈ واٹر فورم 2027 کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔
سعودی ولی عہد نے گلوبل واٹر آرگنائزیشن کے قیام کا اعلان کیا جس کا مرکزی دفتر ریاض میں قائم کیا جائے گا۔آرگنائزیشن کے قیام کا مقصد دنیا کو درپیش پانی کے چیلنجز کے بارے میں مطلع کرنا اور ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنا ہو گا۔آرگنائزیشن کے تحت عالمی سطح پر پانی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کام کیا جائے گا، علاوہ ازیں جدید ٹیکنالوجیز کے تبادلہ اور مختلف شعبوں میں ہونے والی تحقیق کی روشنی میں مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔
مملکت کی جانب سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور عالمی تنظیموں کے علاوہ نجی شعبوں کو بھی شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔انہو ں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب نے 2020 میں جی 20 کی صدارت کے دوران پہلی مرتبہ ورک پلان میں پانی کے ایشوز کو شامل کرنے کے لیے کام کیا۔اس تقریب میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں سمیت کئی ملکوں کے سربراہوں اور اعلٰی حکام نے شرکت کی۔قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور متعدد وزرا اور حکام بھی موجود تھے۔








