اسرائیل غزہ میں نسل کشی‘ کر رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

لندن ۔5دسمبر (اے پی پی):انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں گزشتہ سال شروع ہونے والی جنگ کے آغاز سے ہی فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔اے ایف پی کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس میں موجود معلومات اسرائیلی حکومت اور عسکری حکام کے غیرانسانی اور نسل کشی کے بیانات، سیٹ لائٹ تصاویر اور …

لندن ۔5دسمبر (اے پی پی):انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں گزشتہ سال شروع ہونے والی جنگ کے آغاز سے ہی فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔اے ایف پی کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس میں موجود معلومات اسرائیلی حکومت اور عسکری حکام کے غیرانسانی اور نسل کشی کے بیانات، سیٹ لائٹ تصاویر اور زمینی حقائق پر مبنی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ ایگنس کیلامارڈ نے جاری بیان میں کہا کہ کئی ماہ سے اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ انسانوں سے کم درجے کی مخلوق والا سلوک کر رہا ہے جو انسانی حقوق یا تعظیم کے قابل نہ ہوں، اور یہ فلسطینیوں کے وجود کو باقاعدہ تباہ کرنے کے اسرائیلی ارادوں کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ ’واضح شواہد پر مبنی یہ نتائج انٹرنیشنل کمیونٹی کو جگانے اور خبردار کرنے کے لیے کافی ہونے چاہیے۔ یہ نسل کشی ہے۔ اس کو اسی وقت رکنا چاہیے۔

ایمنسٹی کی سربراہ ایگنس کیلامارڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسرائیل عسکری مقاصد رکھتا ہے۔ لیکن عسکری مقاصد کے ہونے سے نسل کشی کے ارادوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ رپورٹ میں 7 اکتوبر 2023 سے رواں سال 20 اپریل کے درمیان 15 حملوں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں 141 بچوں سمیت 334 شہری شہید ہوئے اور ان واقعات میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ حملے عسکری مقاصد کی غرض سے کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو ’غذا کی کمی، بھوک اور بیماریوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں دھیرے دھیرے موت کی طرف دھکیلا گیا ہے۔جنگ کے آغاز سے کم از کم 44 ہزار 532 افراد غزہ میں شہید ہو چکے ہیں۔