شام کی نئی انتظامیہ میں سب کی شمولیت ہونی چاہیے، ترکیہ

انقرہ ۔9دسمبر (اے پی پی):ترکیہ نے کہا ہے کہ شام کی نئی انتظامیہ میں سب کی شمولیت ہونی چاہیے۔ ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ شام کی نئی انتظامیہ میں سب کو شامل ہونا چاہیے کیونکہ صدر بشار الاسد کی باغی افواج کے ہاتھوں بے دخلی کے بعد شامی عوام اب اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں گے۔دوحہ میں ایک پریس کانفرنس میں فیدان نے کہا کہ …

انقرہ ۔9دسمبر (اے پی پی):ترکیہ نے کہا ہے کہ شام کی نئی انتظامیہ میں سب کی شمولیت ہونی چاہیے۔ ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ شام کی نئی انتظامیہ میں سب کو شامل ہونا چاہیے کیونکہ صدر بشار الاسد کی باغی افواج کے ہاتھوں بے دخلی کے بعد شامی عوام اب اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں گے۔دوحہ میں ایک پریس کانفرنس میں فیدان نے کہا کہ شامی عوام ازخود ملک کی تعمیرِ نو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کو دانائی سے کام لینا اور ملک کی علاقائی سالمیت کو بچانا ہو گا۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو اس صورتِ حال سے فائدہ نہ اٹھانے دیا جائے۔الاسد کے پتہ نشان کے بارے میں سوال پر فیدان نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کر سکتے لیکن ان کا خیال ہے کہ وہ ملک سے باہر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر رجب طیب اردگان نے حالات کو معمول پر لانے کے مذاکرات کا مطالبہ کیا لیکن اس کے باوجود ترکی کا الاسد سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ برسوں کی خانہ جنگی سے بے گھر ہونے والے شامی اب اپنے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں۔قطر میں بین الاقوامی مکالمے کے لیے دوحہ فورم میں فیدان نے کہا، "لاکھوں شامی جو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے، وہ اپنی سرزمین پر واپس جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وقت متحد ہونے اور ملک کی تعمیرِ نو کرنے کا ہے۔

شامی حزبِ اختلاف نے اتوار کے روز دمشق پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد الاسد کی معزولی کا اعلان کر دیا اور 13 سال سے زائد خانہ جنگی کے بعد ان کے خاندان کی آہنی ہاتھوں کی حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔ یہ شرقِ اوسط کے لیے ایک انتہائی غیر متوقع دن اور صورتِ حال ہے۔