جنوبی کورین صدر کے دفتر پر پولیس کا چھاپہ، سابق وزیر دفاع کی خودکشی کی کوشش

سیئول۔11دسمبر (اے پی پی):جنوبی کوریا کی پولیس کےخصوصی تفتیشی یونٹ نے کہا ہے کہ اس نے صدر یون سوک یول کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق گزشتہ ہفتے صدر یون سوک یول نے ملک میں مارشل لانافذ کر دیا تھا، تاہم اپوزیشن کی جانب سے مخالفت کے بعد چند ہی گھنٹوں کے اندر مارشل لا ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔پولیس نےاے ایف پی کو بھیجے …

سیئول۔11دسمبر (اے پی پی):جنوبی کوریا کی پولیس کےخصوصی تفتیشی یونٹ نے کہا ہے کہ اس نے صدر یون سوک یول کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق گزشتہ ہفتے صدر یون سوک یول نے ملک میں مارشل لانافذ کر دیا تھا، تاہم اپوزیشن کی جانب سے مخالفت کے بعد چند ہی گھنٹوں کے اندر مارشل لا ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔پولیس نےاے ایف پی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے صدارتی دفتر، نیشنل پولیس ایجنسی، سیئول میٹرو پولیٹن پولیس ایجنسی اور نیشنل اسمبلی سکیورٹی سروس پر چھاپہ مارا ہے۔

مارشل لا لگانے کی ناکام کوشش کرنے والے صدر یون سوک یول پر پہلے ہی بیرون ملک سفر پر پابندی لگائی گئی ہے۔ پولیس نےگزشتہ روز اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں سابق وزیر دفاع کِم یونگ ہیون کو گرفتار کر لیا تھا۔بدھ کو یونہاپ نیوز ایجنسی نے خبر دی کہ کِم یونگ ہیون نے گرفتاری سے کچھ دیر قبل خودکشی کوشش کی۔سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر دفاع کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کیونکہ اس بات کا خدشہ تھا کہ شواہد کو ضائع کیا جا سکتا ہے۔

وزیر دفاع نے اپنے وکلا کے ذریعے کہا ہے کہ تمام صورتحال کی ذمہ داری صرف ان پر ہے اور یہ کہ ماتحت حکام ان کے احکامات پر عملدرآمد کر رہے تھے ۔حراست میں لیے جانے والے وزیر دفاع پر سفری پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے، اسی طرح سابق وزیر داخلہ اور مارشل لا آپریشن کے انچارج جنرل پر بھی سفری پابندی لگا ئی گئی ہے۔کورین نیشنل پولیس ایجنسی کے کمشنر جنرل اور سیئول میٹرو پولیٹن پولیس ایجنسی کے سربراہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔