امریکا کی فضاؤں میں ڈرونز نما پراسرار چیزوں کی پرواز کا انکشاف،فوج سے مداخلت کا مطالبہ

واشنگٹن ۔16دسمبر (اے پی پی):امریکا کی فضاؤں میں ڈرونز نما پراسرار چیزوں کی پرواز کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث فوج سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق اڑنے والی یہ چیزیں ممکنہ طور پر ڈرونز ہو سکتے ہیں جو حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی ساحل کے قریب دکھائی دیے ،یہ رہائشی علاقوں کے قریب اور حساس مقامات پر بھی پرواز کرتے رہے۔ شعبہ ہوم …

واشنگٹن ۔16دسمبر (اے پی پی):امریکا کی فضاؤں میں ڈرونز نما پراسرار چیزوں کی پرواز کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث فوج سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اردو نیوز کے مطابق اڑنے والی یہ چیزیں ممکنہ طور پر ڈرونز ہو سکتے ہیں جو حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی ساحل کے قریب دکھائی دیے ،یہ رہائشی علاقوں کے قریب اور حساس مقامات پر بھی پرواز کرتے رہے۔

شعبہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹر ی الیجندرو مایورکس نےاے بی سی کو بتایا کہ وہ امریکی عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پراسرار ڈرونز کے سامنے آنے کے بعد نیویارک کے سٹیورٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو جمعے اورہفتے کی رات تقریباً ایک گھنٹے تک بند رکھا گیا۔نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نےکہا کہ معاملہ بہت آگے نکل گیا ہے۔

ا ن کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ نیویارک کے ریاستی انٹیلی جنس سینٹر کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ڈرون نما چیزوں کی تحقیقات کرے اور قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں کے ساتھ اس حوالے سے مل کر کام کرے۔

سینیٹ میں اکثریتی رہنما چک سکمرنے کہا کہ انہوں نے ڈی ایچ ایس کو خصوصی ڈیٹیکشن سسٹم نصب کرنے کا کہا ہے جو 360 ڈگری ٹیکنالوجی کا حامل ہو اور ڈرون کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

انہوں نےاس ٹیکنالوجی کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ اگر آسمان تک پہنچانے والی ٹیکنالوجی موجود ہے تو یقیناً ایسی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے جو اس کا پتہ لگا سکے اور اس بات کا بھی تعین کر سکے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے

۔وفاقی حکام کی جانب سے یقین دہانیوں کے باوجود مقامی سیاست دان معلومات کی فراہمی اور دکھائی دینے والی چیزوں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

موریس اور نیوجرسی کے حکام نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوج سمیت تمام دستیاب وسائل کو حرکت میں لایا جائے تاکہ نیوجرسی اور ملک کے دوسرے مقامات پر بلااجازت ڈرونز اڑنے کا سلسلہ بند ہو سکے۔ واضح رہے کہ ڈرون ایسی اصطلاح ہے جو بغیر پائلٹ کے اڑنے والی کسی چیز کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

امریکا میں سات لاکھ 91 ہزار597ڈرون ایف اے اے کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جو تقریباً یکساں طور پر تجارتی اور تفریحی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ فوٹوگرافی، زراعت اور دوسرے صنعی کاموں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان کا استعمال کرتے ہیں

۔رات کے وقت آسمان پر دکھائی دینے والی چیزوں( جن کے بارے وائٹ ہاؤس کی سلامتی کونسل کے مشیر جان کربی کا خیال ہے کہ ان کی غلط شناخت کی گئی) کی قطعی شناخت کے حوالے سے اب بھی کنفیوژن پائی جاتی ہے جبکہ درست تعداد کا تعین بھی نہیں ہو سکا ۔