ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے 2024 کو ریکارڈ پر گرم ترین سال قرار دے دیا

اقوام متحدہ۔31دسمبر (اے پی پی):جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے 2024 کو ریکارڈ پر گرم ترین سال قرار دیا ہے، جس کے دوران کرہ ارض کے اوسط درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ڈبلیو ایم او کی سیکرٹری جنرل سیلسٹے ساؤلو نے کہا کہ ادارے کی طرف سے 2024 کے دوران آب و ہوا کی صورتحال کے …

اقوام متحدہ۔31دسمبر (اے پی پی):جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی ایجنسی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے 2024 کو ریکارڈ پر گرم ترین سال قرار دیا ہے، جس کے دوران کرہ ارض کے اوسط درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ڈبلیو ایم او کی سیکرٹری جنرل سیلسٹے ساؤلو نے کہا کہ ادارے کی طرف سے 2024 کے دوران آب و ہوا کی صورتحال کے بارے میں بار بار ریڈ الرٹس جاری کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال ہم نے بہت سارے ممالک میں ریکارڈ توڑ بارشوں اور سیلاب کے واقعات اور جانوں کا خوفناک نقصان دیکھا ۔2024 کے دوران سمندری طوفان خوفناک جانی اور معاشی نقصان کا باعث بنے، جن میں حال ہی میں بحر ہند میں فرانس کے زیر کنٹرول جزیرے مایوٹ میں سمندری طوفان سے نقصان خاص طور سے قابل ذکر ہے۔

2024 کے دورا ن دنیا کے درجنوں ممالک میں لوگوں نے شدید گرمی کا سامنا کیا جہاں کئی مواقع پر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اس کے ساتھ ساتھ اس سال جنگلات میں لگنے والی آگ نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اس حوالے سے سال نو کے پیغام میں کہا کہ آج میں باضابطہ طور پر اطلاع دے سکتا ہوں کہ ہم نے ابھی ایک ایسے عشرے کو مکمل کیا ہے جس کے دوران لوگوں نے شدی ترین گرمی کو برداشت کیا۔یہ دس سال ریکارڈ پر گرم ترین سال رہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ صورتحال آب وہوا میں تبدیلیوں کا نتیجہ ہے اور ہمیں ان تبدیلیوں کی رفتار کم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ ڈبلیو ایم او کی عالمی درجہ حرارت میں اضافے بارے رپورٹ کے مطابق آب وہوا کی تبدیلیوں کے نتیجہ میں 2024 کے دوران خطرناک گرمی کی مدت میں 41 دن کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انسانی صحت اور ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا ۔آب وہوا کی تبدیلیوں نے 29 شدید موسمی حالات میں سے 26 کی شدت میں اضافہ کیا جن میں 3700 افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔