اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سابق وفاقی وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر کی وجہ وزارت قانون و انصاف کے تاخیری حربے تھے، اسی وجہ تھی سے صدر مملکت اور وزیراعظم کو معاملہ میں مداخلت کر کے کابینہ کے سامنے پیش کرنا پڑا، نیب حکام …
پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس، نیب کو نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر کا معاملہ جلد از جلد نمٹانے اور آٹھ ہفتے بعد ابتدائی تحقیقات رپورٹ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 مئی (اے پی پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی سابق وفاقی وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر کی وجہ وزارت قانون و انصاف کے تاخیری حربے تھے، اسی وجہ تھی سے صدر مملکت اور وزیراعظم کو معاملہ میں مداخلت کر کے کابینہ کے سامنے پیش کرنا پڑا، نیب حکام نے بھی پی اے سی کو بتایا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر سے 113 ارب روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اس کی چھان بین 8 ہفتوں میں مکمل کر لی جائے گی، جس کے بعد ایگزیکٹو بورڈ اس کی فوجداری تحقیقات کی منظوری دے گا۔ پی اے سی نے معاملے کو جلد از جلد نمٹانے اور آٹھ ہفتوں کے بعد ابتدائی تحقیقات رپورٹ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس بدھ کو پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیرصدارت ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان شفقت محمود، عبدالرشید گوڈیل، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر تنویر خان، سینیٹر اعظم سواتی، ڈاکٹر عارف علوی، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر شیری رحمٰن، سید نوید قمر، ارشد لغاری، شاہدہ اختر علی، میاں عبدالمنان، راجہ جاوید اخلاص، رانا افضال حسین، شیخ روحیل اصغر اور سردار عاشق حسین گوپانگ کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت پانی و بجلی کے ذیلی ادارے واپڈا کے 2014-15ءکے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔








