اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ایک خطہ ایک سڑک کا نظریہ عصر حاضر کی تاریخ کا انتہائی اہمیت کے حامل اقدام میں تبدیل ہو چکا ہے جو دنیا کے عوام کے مابین مشترکہ امیدوں ، خوشحالی اور فائدہ مند تعاون کا عکاس ہے۔ اتوار کو بیجنگ میں تھنک ٹینکس کے روابط کے حوالے سے موضوعاتی …
وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا بیجنگ میں تھنک ٹینکس کے روابط کے حوالے سے موضوعاتی سیشن سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ایک خطہ ایک سڑک کا نظریہ عصر حاضر کی تاریخ کا انتہائی اہمیت کے حامل اقدام میں تبدیل ہو چکا ہے جو دنیا کے عوام کے مابین مشترکہ امیدوں ، خوشحالی اور فائدہ مند تعاون کا عکاس ہے۔ اتوار کو بیجنگ میں تھنک ٹینکس کے روابط کے حوالے سے موضوعاتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی منسلکی میں سڑکوں، ریلوے، سمندری، بندرگاہوں کے روابط اور پالیسی، تجارت اور مالیات کی منسلکی شامل ہیں۔ تاہم ہم اس کے ساتھ ساتھ چند تاریخی رجحانات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہذیبوں کے اعتبار سے ایک خطہ ایک سڑک کا اقدام سوچوں، افکار اور ثقافتوں کا احاطہ کرتا ہے اور تھنک ٹیکنس اس کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھنک ٹینکس کا مباحثہ ایک خطہ ایک روڈ میں شامل ممالک کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اقدام اور جذبے کو سراہتا ہے ۔ مشترکہ شراکت داری اور رضاکارانہ تعاون اس منصوبے کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ چین نے درکار تعاون کا طریقہ کار وضع کیا ہے اور اسے حقیقت کا روپ دھارنے کیلئے اپنے ٹیکنالوجی اور وسائل کو بروئے کار لایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان پہلے فلیگ شپ بیلٹ انٹر روڈ انیشیٹو کا حصہ بننے کا استحقاق حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پر زور و شور سے کام جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں درکار انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ دی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ توانائی کی پیداوار اور ترسیل کے متعدد منصوبے قائم کئے جارہے ہیں اور گوادر بندرگاہ کو ایک خطہ ایک سڑک کے سنگ میل کی حیثیت سے ترقی دی جارہی ہے۔








