جنیوا۔4فروری (اے پی پی):افریقی ملک نائجر سے دریائی اندھے پن کی بیماری(اونچوسرسیاسس ) کا خاتمہ ہو گیا۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق نائجر نے اونچوسرسیاسس کے خاتمے کا سنگ میل عبور کر لیاہے، یہ عالمی سطح پر پانچواں اور افریقہ کا پہلا ملک ہے جہاں دریائی اندھے پن یا ریور بلائنڈ نس کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ڈبلیو …
نائجر نے اونچوسرسیاسس کے خاتمے کا سنگ میل عبور کر لیا

مزید خبریں
جنیوا۔4فروری (اے پی پی):افریقی ملک نائجر سے دریائی اندھے پن کی بیماری(اونچوسرسیاسس ) کا خاتمہ ہو گیا۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق نائجر نے اونچوسرسیاسس کے خاتمے کا سنگ میل عبور کر لیاہے، یہ عالمی سطح پر پانچواں اور افریقہ کا پہلا ملک ہے جہاں دریائی اندھے پن یا ریور بلائنڈ نس کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ ڈبلیو ایچ او سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ڈبلیو ایچ او ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ملک سے کسی بیماری کو ختم کرنا ایک اہم کامیابی ہے جس کے لئے انتھک لگن کی ضرورت ہوتی ہے، میں نائجر کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ اپنی آبادی کو اس بیماری سے نجات دلانے کے عزم پر ہے جو غریب ترین لوگوں میں بہت زیادہ انسانی مصائب کا باعث بنتی ہے۔
یہ کامیابی ان قابل ذکر پیش رفتوں کا ایک اور ثبوت ہے اور دوسری قوموں کو امید فراہم کرتی ہے جو ابھی بھی اونچو سرسیاسس سے لڑ رہے ہیں۔ اونچو سرسیاسس ، جسے عام طور پر ریور بلائنڈنس کہا جاتا ہے، ایک طفیلی بیماری ہے اور ٹریچوما کے بعد دنیا بھر میں اندھے پن کی دوسری بڑی متعدی وجہ ہے۔ یہ متاثرہ کالی مکھیوں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جو بنیادی طور پر دریا کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔اس بیماری سے بنیادی طور پر سب صحارا افریقہ اور یمن میں دیہی آبادیوں متاثر ہ ہیں،جبکہ لاطینی امریکا کے کچھ حصوں میں بھی یہ بیماری پائی جاتی ہے ۔








