پاکستان مسلم لیگ نون کے چئیرمین اورسینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق کا یوم تکبیر کے موقع پر انٹرویو

اسلام آباد ۔ 28 مئی (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ( ن )کے چئیرمین اورسینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے کہاہے کہ 1998میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں جوہری دھماکوں کا مشکل فیصلہ پاکستان کی مجبوری تھی، کم سے کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا،دھماکوں سے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں مدد ملی ہے، ایٹمی طاقت ہونے کے …

اسلام آباد ۔ 28 مئی (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ( ن )کے چئیرمین اورسینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے کہاہے کہ 1998میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں جوہری دھماکوں کا مشکل فیصلہ پاکستان کی مجبوری تھی، کم سے کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا،دھماکوں سے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں مدد ملی ہے، ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے۔اتوار کویہاں پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کے 19سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنے ایک انٹرویو میں راجہ ظفرالحق نے کہاکہ 1998میں وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں جوہری دھماکوں کا مشکل فیصلہ کیا گیا تھا اورایسا کرنا پاکستان کی مجبوری تھی ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا اس ضمن میںکوئی ارادہ نہیں تھا کیونکہ جوہری حملوں میں تباہی یکساں ہوتی ہے تاہم جب بھارت نے 13مئی کوایٹمی دھماکہ کیا تو ہمارے پاس کم سے کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔راجہ ظفرالحق نے کہاکہ جوہری ہتھیاروں کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں فریقین کے پاس ہتھیاروں کی تعداد کو نہیں دیکھا جاتا، اگر ایک ملک کے پاس 10جوہری ہتھیار ہوں اوردوسرے کے پاس ہزار تو دونوں ایک جیسے تصور ہوتے ہیں کیونکہ اس سے یکساں تباہی آتی ہے۔

Leave a Reply