اقوام متحدہ ۔5مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نےانکشاف کیا ہے کہ سوڈانی جنگجوؤں نے بچوں کی عصمت دری کی ہے۔العربیہ کے مطابق یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنسی تشدد کا مقابلہ کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے جمع کیے گئے اعداد و شمار نے بچوں کے خلاف کیے جانے والے تشدد کے حقیقی دائرہ کار کی صرف ایک …
سوڈانی جنگجوؤں کی سینکڑوں بچوں کی عصمت دری کی ، یونیسف رپورٹ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔5مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نےانکشاف کیا ہے کہ سوڈانی جنگجوؤں نے بچوں کی عصمت دری کی ہے۔العربیہ کے مطابق یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنسی تشدد کا مقابلہ کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے جمع کیے گئے اعداد و شمار نے بچوں کے خلاف کیے جانے والے تشدد کے حقیقی دائرہ کار کی صرف ایک جزوی تصویر فراہم کی ہے۔
یونیسیف نے یہ بھی بتایا کہ 2024 کے آغاز سے لے کر اب تک بچوں سے زیادتی کے 221 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً دو تہائی لڑکیاں ہیں۔ زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں میں سے پانچ سال سے کم عمر کے 16 بچے اور ایک سال سے کم عمر کے 4 بچے شامل ہیں۔
یونیسیف کی ڈائریکٹر جنرل کیتھرین رسل نے کہا کہ یہ حقیقت کہ ایک سال سے کم عمر کے بچوں کی مسلح افراد نے عصمت دری کی ہے۔ یہ سب کے لیے صدمے کی بات ہے۔ اس کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں سوڈانی بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنائے جانے اور دیگر قسم کے جنسی تشدد کا خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ یہ مظالم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔یونیسیف کی رپورٹ میں شاید سب سے خوفناک چیز یہ ہے کہ مسلح افراد اکثر خاندانوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو ان کے حوالے کریں تاکہ ان کے رشتہ داروں کے سامنے ان کی عصمت دری کی جا سکے۔
ریورٹ میں ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں میں سے کسی کا نام نہیں بتایا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ان جنسی جرائم کے متاثرین اکثر شدید جسمانی اور نفسیاتی زخموں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے تاحیات نتائج ہو سکتے ہیں اور زندہ بچ جانے والوں کو ناممکن انتخاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔








