اسلام آباد ۔ 31 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات،نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نہال ہاشمی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے،اس بیان سے مسلم لیگ (ن)، شریف فیملی اور حکومت کا کوئی تعلق نہیں، ان کا یہ بیان نہایت غیر مناسب اور افسوسناک ہے، مسلم لیگ (ن) آئین اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور تمام آئینی اور …
وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کی ٹی وی چینلز سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 مئی (اے پی پی) وزیر مملکت برائے اطلاعات،نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نہال ہاشمی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے،اس بیان سے مسلم لیگ (ن)، شریف فیملی اور حکومت کا کوئی تعلق نہیں، ان کا یہ بیان نہایت غیر مناسب اور افسوسناک ہے، مسلم لیگ (ن) آئین اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور تمام آئینی اور قانونی اداروں کا احترام کرتی ہے، وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ہمیشہ احتساب پر یقین رکھا۔ وہ بدھ کو نہال ہاشمی کے بیان کے حوالے سے مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو کر رہی تھیں ۔وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہ نہال ہاشمی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، حکومت آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ، نہال ہاشمی کے بیان سے حکومت ، شریف فیملی اور مسلم لیگ (ن )کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نہال ہاشمی کا بیان انتہائی نامناسب اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو کمیشن بنانے کیلئے خود خط لکھا، وزیراعظم اور ان کے خاندان نے ہر سطح پر تعاون کیا ہے اور کوشش ہے کہ اداروں کے درمیان غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی شریف فیملی کے جس رکن کو جب پیش ہونے کے لئے کہے گی تو وہ پیش ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر نیہال ہاشمی سے سینیٹ کی نسشت سے استعفیٰ مانگا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے جو ایکشن لیا ہے وہ اس موقف کی نفی کرتا ہے کہ خدانخواستہ کوئی سازش تیار کی جا رہی تھی اور جان بوجھ کر کچھ ایسا منصوبہ بنایا جا رہا تھا کیونکہ وزیراعظم محمد نواز شریف اس قسم کی کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی نے پارٹی ڈسپلن کی خلادف ورزی کی یا اپنے بیان سے آئینی و قانونی اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو اس پر وزیراعظم محمد نواز شریف نے ہمیشہ سخت نوٹس لیا ہے اور یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اس طرح کے کسی ایکشن کی اجازت نہیں دیں گے۔








