اسلام آباد ۔ 13 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نئے منظور شدہ کلائمیٹ چینج ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے تین اداروں کےلئے یو این ڈی پی کی جانب سے کسی بھی معاونت کا خیرمقدم کرے گی۔ یہ بات انہوں نے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور یو این ڈی پی، ریجنل ڈائریکٹر، ریجنل بیورو برائے ایشیاءاور پیسیفک ہاﺅلنگ …
کلائمیٹ چینج ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے اداروں کےلئے یو این ڈی پی کی معاونت کا خیرمقدم کریں گے، وفاقی وزیر زاہد حامد

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی نئے منظور شدہ کلائمیٹ چینج ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے تین اداروں کےلئے یو این ڈی پی کی جانب سے کسی بھی معاونت کا خیرمقدم کرے گی۔ یہ بات انہوں نے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور یو این ڈی پی، ریجنل ڈائریکٹر، ریجنل بیورو برائے ایشیاءاور پیسیفک ہاﺅلنگ ژو کے ساتھ ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی کمی ہے جو کہ نمو کو متاثر کر رہی ہے، یہ ہماری اولین ترجیح ہے کہ ہم توانائی کے بحران پر قابو پا لیں، کول پاور پلانٹ توانائی کی کمی پر قابو پانے کا تیز ترین ذریعہ ہے لیکن یہ کول پاور پلانٹ صوبائی انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجینسز کے مرتب کردہ انوائرنمنٹ کوالٹی سٹینڈرز کے مطابق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم طویل مدت میں ہائیڈرو پاور منصوبے اور ونڈ انرجی منصوبوں کو فروغ دیں گے، ہم نے 1000 میگاواٹ کا سب سے بڑا سولر انرجی پارک قائم کیا ہے۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ ہماری پہلے سے کلائمیٹ چینج پالیسی اور اس کے اطلاق کا فریم ورک موجود ہے، کلائمیٹ چینج ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے ادارے کلائمیٹ چینج پالیسی کے اطلاق میں مددگار ثابت ہوں گے۔








