اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):معاشی و تعلیمی ماہرین نے کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر بجٹ کی ترجیحات میں متعلقہ اقدامات کو شامل کرنا انتہا ئی ضروری ہے، آئندہ مالی سال کےبجٹ کے اقدامات کو اڑان پاکستان کے پانچ سالہ منصوبے کے طویل المدتی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے، پانی کے انتظام کے چیلنجز پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار …
آئندہ مالی سال کےبجٹ کے اقدامات کو اڑان پاکستان کے پانچ سالہ منصوبے کے طویل المدتی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے، مقررین کا آئی پی ایس میں منعقدہ سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔26مئی (اے پی پی):معاشی و تعلیمی ماہرین نے کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر بجٹ کی ترجیحات میں متعلقہ اقدامات کو شامل کرنا انتہا ئی ضروری ہے، آئندہ مالی سال کےبجٹ کے اقدامات کو اڑان پاکستان کے پانچ سالہ منصوبے کے طویل المدتی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے، پانی کے انتظام کے چیلنجز پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز(آئی پی ایس) اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا عنوان ’’وفاقی بجٹ 2025-26: اڑان پاکستان کے تحت سٹریٹجک ترجیحات اور پاک بھارت کشیدگی کے اثرات‘‘ تھا۔ مقررین میں سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود ، سابق پرنسپل اکنامک ایڈوائزر ثاقب شیرانی،وزارت منصوبہ بندی کے سابق جوائنٹ چیف اکانومسٹ ظفر الحسن الماس اور چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن شامل تھے۔
مقررین نے اقتصادی صورتحال میں حالیہ بہتری کو تسلیم کیا جس میں کم افراط زر، مستحکم ادائیگیوں کا توازن، مضبوط کرنسی اور سٹاک مارکیٹ میں بحالی شامل ہے ۔ ماہرین نے اڑان پاکستان کو ایک شاندار سٹریٹجک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والا بجٹ اس منصوبے کے وژن کو عملی شکل دینے کا اہم موقع ہے۔ ماہرین نے کہا کہ بجٹ کے فیصلوں کو اڑان پاکستان کی سٹریٹجک سمت کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے تاکہ جی ڈی پی کے تناسب میں برآمدات کو بڑھایا جا سکے، آئی ٹی سیکٹر کو مضبوط بنایا جا سکے، ماحولیاتی و موسمیاتی استحکام کو فروغ دیا جا سکے اور ماحول دوست توانائی کی طرف منتقلی کو سپورٹ کیا جا سکے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان 1988 سے اب تک آئی ایم ایف کے 14ویں پروگرام میں ہے،آئی ایم ایف کے پروگرام کو پائیدار، طویل المدتی ترقی میں تبدیل کرنا بنیادی چیلنج ہے،اس ضمن میں جامع ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
خالد رحمٰن نے کہا کہ حکومتوں میں پالیسی تسلسل کو برقرار رکھنا مستحکم اور قابل اعتماد کاروباری ماحول کے لیے ضروری ہے،اقتصادی اشاریے میں حالیہ بہتری قابل تعریف ہے تاہم قلیل المدتی اقتصادی نمو کو طویل المدتی ترقی میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ عوام کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ انہوں نے ملک کی اقتصادی و سماجی بہبود میں نجی و سماجی شعبے کی کلیدی اور پر اثر شمولیت کو پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ قومی ترقی کے حصول اور استحکام کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہو گا۔








