جے آئی ٹی کا طریقہ کار اور رویہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کے منافی ہے، راجہ محمد ظفر الحق

جے آئی ٹی کا طریقہ کار اور رویہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کے منافی ہے، مسلم لیگ (ن) کو ہدف بنایا جا رہا ہے،فیصلہ آنے کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل وضع کیا جائے گا، راجہ محمد ظفر الحق اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق نے کہا …

جے آئی ٹی کا طریقہ کار اور رویہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کے منافی ہے، مسلم لیگ (ن) کو ہدف بنایا جا رہا ہے،فیصلہ آنے کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل وضع کیا جائے گا، راجہ محمد ظفر الحق

اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین اور سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق نے کہا ہے کہ پانامہ پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) کا طریقہ کار اور رویہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روح کے منافی ہے، اس بارے میں بہت سے لوگوں کے تحفظات ہیں اور اس سے ردعمل جنم لے رہا ہے، واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”اے پی پی“ سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایک سوال کے جواب میں راجہ ظفر الحق نے کہاکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے طریقہ کار اور رویہ پر بہت سے لوگوں کو تحفظات ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی سپرٹ پر عمل نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی طرف سے تحقیقات اس انداز میں ہو رہی ہیں جیسے کسی کو ٹارگٹ کرنا مقصود ہو جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ایسے لوگ جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے نہیں ہے، وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ واضح طور پر لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ٹارگٹ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جیسے کسی کواس کام پر لگایا گیا ہو اور یہ بھی پتہ نہیں چل رہا ہے کہ انہیں اس کام پر کس نے لگایا ہے تاہم ہمیں سپریم کورٹ پر بھر پور اعتماد ہے۔ اس ضمن میں فیصلہ تسلیم کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سینیٹ میں قائد ایوان نے کہا کہ فیصلہ آنے پر ہی بتائیں گے۔

Leave a Reply