اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):مسابقتی کمیشن نے مالی سال 2024-25 کے دوران گمراہ کن مارکیٹنگ کرنے اور گٹھ جوڑ بنا کر قیمتوں کو فکس کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث کاروباری اداروں کے خلاف 12 آرڈر جاری کرتے ہوئے 1 ارب روپے سے زائد مالیت کے جرمانے عائدکئے۔مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر یہ جرمانے کھاد، پولٹری، آٹوموبائل، فارماسیوٹیکل، رئیل اسٹیٹ، خوراک، صحت و صفائی کی مصنوعات، پینٹس اور تعلیم کے …
مسابقتی کمیشن کے گزشتہ مالی سال کے دوران کارٹلایزیش و گمراہ کن مارکیٹنگ پر پولٹری، آٹوموبیل، فارماسیوٹیکل ، ریئل اسٹیٹ ، اور فرٹیلائزر کمپنیوں کو ایک ارب روپے کے جرمانے

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):مسابقتی کمیشن نے مالی سال 2024-25 کے دوران گمراہ کن مارکیٹنگ کرنے اور گٹھ جوڑ بنا کر قیمتوں کو فکس کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث کاروباری اداروں کے خلاف 12 آرڈر جاری کرتے ہوئے 1 ارب روپے سے زائد مالیت کے جرمانے عائدکئے۔مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر یہ جرمانے کھاد، پولٹری، آٹوموبائل، فارماسیوٹیکل، رئیل اسٹیٹ، خوراک، صحت و صفائی کی مصنوعات، پینٹس اور تعلیم کے شعبوں سے منسلک کاروباری اداروں پرعائد کئے گئے۔
اس سال کمیشن کے 12 آرڈرز میں سے گمراہ کن مارکیٹنگ کے خلاف آٹھ، گٹھ جوڑ بنا کر قیمتیں فکس کرنے پر تین جبکہ ایک آرڈر لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر رجسٹرڈ ٹریڈ مارک کے غیرقانونی استعمال کے خلاف کارروائی کے لئے کمیشن کی قانونی حدود متعین کرنے کے لئے کیا گیا۔کمیشن کے اہم ترین حکم ناموں میں چھ فرٹیلائزر کمپنیوں اور ان کی ایسوی ایشن کے خلاف یوریا کھاد کی قیمتیں فکس کرنے پر مجموعی طور پر 37 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق ہر ایک یوریا مینوفیکچر کمپنی پر 5 کروڑ روپے جبکہ ان کی ایسوسی ایشن پر ساڑھے 7 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اسی سال کمیشن نے ایک دن کے برائلر چوزوں کی قیمتیں فکس کرنے پر آٹھ پولٹری ہیچریز پر مجموعی طور پر ساڑھے 15 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں اپنے ہائوسنگ پروجیکٹ کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے پر کنگڈم ویلی پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ۔ اسی طرح یونی لیور اور فرائزلینڈ کیمپینا اینگرو کو فروزن ڈیزرٹس کو بطور آئس کریم فروخت کرنے پر ساڑھے 7 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔ ایک اور کیس میں یونی لیور کو لائف بوائے کے پروڈکٹس میں جھوٹے دعوے پر مبنی اشتہارات چلانے پر 6 کروڑ روپے کا اضافی جرمانہ عائد کیا گیا۔
علاوہ ازیں اس سال الغازی ٹریکٹرز کو ایندھن کی بچت کے جھوٹے دعوے پر 4 کروڑ روپے، ہنڈائی نشاط موٹرز کو ہنڈائی ٹکسون ایس یو وی کے گمراہ کن اشتہارات چلانے پر ڈھائی کروڑ روپے جبکہ فارما کمپنی تھری این لائف میڈ فارماسیوٹیکلز کو ڈائیلائسز مشینوں کے لئے جعلی سرٹیفیکس استعمال کرنے پر 2 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا جو بعد ازاں کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل نے کم کر کے 20 لاکھ روپے کر دیا تھا۔
اس کے علاوہ گمراہ کن اشتہارات شائع کرنے پر برٹش لائسیم اور ڈائمنڈ پینٹس پر 50، 50 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کئے گئے۔چیئرمین مسابقتی کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کارٹیلائزیشن کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ملکی معیشت میں کارٹلز کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے تمام کاروباری ایسوی ایشنز کو خبردار کیا کہ وہ پرائس سے متعلق معلومات کے تبادلہ اور قیمتوں کو فکس کرنے سے دور رہیں۔







