اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام سید احمد شاہ پطرس بخاری کی یاد میں خصوصی نشست کا انعقاد،وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی اور سینیٹرعرفان صدیقی کی خصوصی شرکت

اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام اردو ادب کے نابغۂ روزگار ادیب، مزاح نگار، براڈکاسٹر اور سفارت کار سید احمد شاہ پطرس بخاری کی یاد میں بدھ کو ایک پروقارخصوصی نشست منعقد ہوئی۔ یہ ادبی تقریب اکادمی کے صدر دفتر پطرس بخاری روڈ اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کی صدارت ممتاز دانشور، ادیب اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کی جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ …

اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام اردو ادب کے نابغۂ روزگار ادیب، مزاح نگار، براڈکاسٹر اور سفارت کار سید احمد شاہ پطرس بخاری کی یاد میں بدھ کو ایک پروقارخصوصی نشست منعقد ہوئی۔ یہ ادبی تقریب اکادمی کے صدر دفتر پطرس بخاری روڈ اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کی صدارت ممتاز دانشور، ادیب اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کی جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی مہمانِ خصوصی تھے۔

تقریب میں فرح ناز اکبر (پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت) اور اسد رحمان گیلانی (وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت) نے بطور مہمانان اعزاز شرکت کی۔ یہ یادگار تقریب اکادمی کے کانفرنس ہال کی تزئین نو کے افتتاح بدستِ سینیٹر عرفان صدیقی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ مہمانوں نے پطرس بخاری کے فن و شخصیت نیز علمی ادبی اداروں کی افادیت کے حوالے سے گفتگو کی۔ استقبالیہ کلمات میں ڈاکٹر نجیبہ عارف (صدرنشیں اکادمی ادبیاتِ پاکستان) نے پطرس بخاری کی علمی، ادبی اور سفارتی خدمات پر روشنی ڈالی جس میں ان کے طنز و مزاح کے اسلوب، فکری گہرائی اور زبان و بیان پر عبور کا سیرحاصل جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کا شکریہ ادا کیا جن کی طرف سے جاری کیے گئے فنڈز سے کانفرنس ہال کی شایانِ شان تزئینِ نو ہوئی۔ انہوں نے علمی ادبی اداروں خصوصاً اکادمی ادبیات کی سرپرستی کرنے پر سینیٹر عرفان صدیقی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے اردو طنز و مزاح میں پطرس بخاری اور فرحت اللہ بیگ کی ادبی خدمات کا تقابلی جائزہ پیش کیا، نیز پطرس بخاری کی زندگی کے یادگار واقعات سنائے۔ انہوں نے کانفرنس ہال کی شایانِ شان تزئین اور پطرس بخاری جیسے بڑے ادیب کی یاد میں تقریب منعقد کرنے پر اکادمی کو مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے حکومت کی طرف سے علمی وادبی اداروں کی بقا کی یقین دہانی کرائی اور ان کی سرپرستی جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔ اکادمی کی یہ تقریب ایک جداگانہ رنگ کی حامل تھی جس کے دو حصے خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔ ایک تو پطرس بخاری کے مشہور مضمون ”سویرے جو کل آنکھ میری کھلی“ پر مبنی ایک ڈرامائی تشکیل تھی، جسے سوانگ تھیٹر نے فنکارانہ انداز میں پیش کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔

وفاقی وزیراورنگ زیب خان کھچی نے منتظمین کیلئے خصوصی انعام کا اعلان کیا۔ دوسرا اہم حصہ ایک مکالمے پر مشتمل تھا جس میں پطرس بخاری کے پوتے ایاز بخاری سے ڈاکٹر فرخ ندیم نے گفتگو کی۔ مکالمے میں پطرس بخاری کی شخصیت، ان کے فن اور ان کی سفارت کاری سے متعلق یادگار معلومات فراہم کی گئیں۔ نیز پطرس بخاری کے قابلِ فخر سفرِ حیات پر ڈاکومنٹریز بھی پیش کی گئیں۔

یہ نشست نہ صرف پطرس بخاری کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ نئی نسل کو اردو ادب کی مزاح نگاری کے اعلیٰ معیار سے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ تقریب میں پطرس بخاری کے خاندان کے افراد سمیت علمی ادبی خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔