اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے)نے پاکستان میں صحت عامہ کے میدان میں ایک نمایاں اور فعال ادارے کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کرلی ہے۔ ترجمان ایچ ایس اے کے مطابق ادارے نے اب تک 10 ہزار سے زائد ماہرین کو مختلف شعبہ جات میں تربیت فراہم کی ہے جبکہ 400 سے زائد ماہرین اس وقت ملک کے مختلف اضلاع، تحصیلوں اور دور دراز علاقوں …
ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے پبلک ہیلتھ کی قیادت سنبھال لی ، 10 ہزار تربیت یافتہ ماہرین، 100 سے زائد تحقیقی روابط

مزید خبریں
اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے)نے پاکستان میں صحت عامہ کے میدان میں ایک نمایاں اور فعال ادارے کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کرلی ہے۔ ترجمان ایچ ایس اے کے مطابق ادارے نے اب تک 10 ہزار سے زائد ماہرین کو مختلف شعبہ جات میں تربیت فراہم کی ہے جبکہ 400 سے زائد ماہرین اس وقت ملک کے مختلف اضلاع، تحصیلوں اور دور دراز علاقوں میں صحت کے نظام کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ ایچ ایس اے نہ صرف ہنرمند ہیلتھ ورک فورس کی تیاری میں مصروف عمل ہے بلکہ پالیسی سازی، ایمرجنسی ریسپانس اور جدید رجحانات کو اپنانے میں بھی قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔ کوویڈ-19 کے دوران ادارے کے گریجویٹس نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی ) میں ویکسینیشن حکمت عملی، اسمارٹ لاک ڈاؤن، اور ڈیٹا بیس فیصلوں میں اہم کردار ادا کیا۔ڈینگی بخار سے نمٹنے کے لئے لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کراچی جیسے شہروں میں ایچ ایس اے کے تربیت یافتہ ماہرین نے ہاٹ اسپاٹ میپنگ، لاروہ سرویلنس، کمیونٹی انگیجمنٹ اور ویکٹر کنٹرول جیسے جدید ماڈلز کو کامیابی سے نافذ کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ایچ ایس اے کے ماہرین نہ صرف زمینی سطح پر خدمات انجام دے رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں جیسے ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور ورلڈ بینک کے ساتھ مشاورتی تعلقات کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔ ان کی تحقیق قومی منصوبہ بندی کا حصہ بن رہی ہے۔ترجمان کے مطابق بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور پنجاب جیسے حساس علاقوں میں ایچ ایس اے کے افسران بطور ایم اینڈ ای آفیسرز اور پروگرام منیجرز فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سیلاب ہو یا پولیو مہم، ایچ ایس اے کے تربیت یافتہ ماہرین ہر ایمرجنسی میں فرنٹ لائن پر موجود ہوتے ہیں۔ایچ ایس اے کے تحت قائم سینٹر فار ایگزیکٹو ایجوکیشن ان ہیلتھ نے ملک بھر سے 10 ہزار سے زائد افراد کو تربیت دی ہے جن میں ہسپتال مینجمنٹ، گورننس، مانیٹرنگ اور صحت عامہ کے دیگر اہم پہلو شامل ہیں۔مستقبل کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایچ ایس اے کلائمیٹ ہیلتھ، ڈیجیٹل ہیلتھ، صنفی برابری اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر تحقیق و تربیت کے ذریعے ایک صحت مند اور خود کفیل پاکستان کے قیام کے لئے کوشاں ہے۔ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایچ ایس اے پاکستان میں صحت کے شعبے کے لیے مزید فعال، موثر اور باصلاحیت ہیلتھ ورک فورس کی تیاری میں اپنا کردار بڑھاتا رہے گا تاکہ ہر شہری کو معیاری اور بروقت صحت خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔







