اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی نے سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2025 اور فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2025 سمیت دو بل منظور کر لئے ۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں دونوں بل وزیر مملکت برائے داخلہ و انسداد منشیات طلال چوہدری نے ایوان میں پیش کئے۔سوسائٹیز رجسٹریشن بل 2025 کے مقاصد اور وجوہات کے بیان کے مطابق، دینی مدارس کو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹر کیا …
قومی اسمبلی میں سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2025 اور فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2025 منظور

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی نے سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2025 اور فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2025 سمیت دو بل منظور کر لئے ۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں دونوں بل وزیر مملکت برائے داخلہ و انسداد منشیات طلال چوہدری نے ایوان میں پیش کئے۔سوسائٹیز رجسٹریشن بل 2025 کے مقاصد اور وجوہات کے بیان کے مطابق، دینی مدارس کو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹر کیا گیا ہے تاہم یہ تجویز ہے کہ جو مدارس وفاق میں پہلے سے رجسٹرڈ ہیں یا براہ راست ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجن ایجوکیشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہونے کے خواہشمند ہیں انہیں وفاقی وزارت برائے تربیت اور وزارت تعلیم سے دوبارہ رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2025 کے مقاصد اور وجوہات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جی ایس پی پلس کے تقاضوں کی تعمیل کرنے اور آئی سی سی پی آر (شہری اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدہ) کے تحت پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں کی تعمیل کرنے کے تناظر میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تین اجلاس کئے گئے ۔
مزید بتایا گیا کہ وزارت داخلہ اور منشیات کے کنٹرول نے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2025 کا مسودہ تجویز کیا جس میں پاکستان پینل کوڈ، 1860 سے سزائے موت کو ہٹانے کی تجویز پیش کی گئی جس میں متعلقہ سیکشنز میں عمر قید کی متبادل سزا دی گئی۔جے یو آئی (ف) کی عالیہ کامران نے بل کو مزید بحث کے لئے قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کی تجویز دی تاہم ایوان نے بل کے حق میں 87 جبکہ مخالفت میں 41 ووٹ ڈالے۔ایوان نے ان بلوں کی شق وار منظوری دی۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ضروری نہیں کہ سخت سزائیں جرم کو روکیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک جہاں سزائے موت نہیں ہے اس کے باوجود جرائم کی شرح صرف دو فیصد ہے۔مزید برآں ڈپٹی سپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے وسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ ویجیلینس کمیشن بل 2025 کو متعلقہ قائمنہ کمیٹی کے پاس بھیج دیا ۔وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ بل سینیٹ سے منظور ہوا لیکن قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے باعث اس پر کارروائی نہیں ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد سرکاری محکموں میں شفافیت لانا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے درخواست کی کہ وہ بل کو کمیٹی کو بھیجیں لیکن مخصوص وقت کے ساتھ ایوان کو واپس رپورٹ کریں۔دریں اثناء طلال چوہدری نے پاکستان کوسٹ گارڈز (ترمیمی) بل 2025 کو قومی اسمبلی میں قواعد و ضوابط کے تحت مزید غور اور منظوری کے لئے مشترکہ اجلاس میں بھیجنے کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔








