تل ابیب۔8اگست (اے پی پی):اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔اردو نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے قبل فاکس نیوز کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو …
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے بھی غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی

مزید خبریں
تل ابیب۔8اگست (اے پی پی):اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔اردو نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے قبل فاکس نیوز کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ہم غزہ پر تسلط نہیں چاہتے۔
ہم اسے عرب افواج کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں دھمکی دیے بغیر اس پر صحیح طریقے سے حکومت کریں گی اور غزہ والوں کو اچھی زندگی دیں گی۔اسرائیل کے ملٹری چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے غزہ پر قبضے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یرغمالیوں کو خطرے میں ڈالے گا اور تقریباً دو سال کی جنگ کے بعد فوج پر مزید دباؤ ڈالے گا۔
یرغمالیوں کے بہت سے خاندان بھی اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ مزید کشیدگی اسرائیلی یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور ان میں سے کچھ افراد نے مقبوضہ بیت المقدس میں سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے باہر احتجاج کیا۔یہ واضح نہیں ہے کہ اس شہر میں کتنے لوگ رہتے ہیں کیونکہ جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں لاکھوں افراد انخلا کے احکامات کے تحت غزہ شہر سے چلے گئے تھے۔
تاہم بہت سے افراد رواں سال کے آغاز میں جنگ بندی کے دوران یہاں واپس لوٹ آئے تھے۔غزہ میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے سے بےشمار فلسطینیوں اور تقریباً 20 اسرائیلی یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی اور اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








