لیبیا میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے قومی مفاہمت کو فروغ دینے کی کوششوں کی ضرورت ہے،پاکستان

اقوام متحدہ۔22اگست (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں زور دیا ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے بروقت اور مؤثر کوششیں کی جائیں، جن میں قومی مفاہمت کا فروغ اور لیبیا کے منجمد اثاثوں کی محتاط اور شفاف سرمایہ کاری شامل ہو تاکہ یہ اثاثے مستقبل میں لیبیا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہو سکیں۔یہ بات اقوام متحدہ …

اقوام متحدہ۔22اگست (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں زور دیا ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے بروقت اور مؤثر کوششیں کی جائیں، جن میں قومی مفاہمت کا فروغ اور لیبیا کے منجمد اثاثوں کی محتاط اور شفاف سرمایہ کاری شامل ہو تاکہ یہ اثاثے مستقبل میں لیبیا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہو سکیں۔یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عثمان جدون نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا کی صورتحال پر بحث کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم لیبیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ایک واضح،متعین مدت پر مشتمل اور قابلِ عمل سیاسی لائحہ عمل وضع کیا جائے جو قومی انتخابات کی راہ ہموار کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے 26 بلدیاتی علاقوں میں انتخابات ہوئے جبکہ سکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بنا پر 37 علاقوں میں ووٹنگ نہ ہو سکی۔ پاکستانی نمائندہ نے امید ظاہر کی کہ ان علاقوں میں بھی جلد انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک لیبیائی قیادت میں اور لیبیائی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ہی ملک میں دیرپا امن، قومی اتحاد اور ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔انہوں نے اقوامِ متحدہ کے مشن برائے لیبیا (یو این ایس ایم آئی ایل ) کی سربراہ ہنّا ٹیٹے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں کئی منفی رجحانات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں داراحکومت طرابلس اور گرد و نواح میں سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال، سیاسی مفاہمت کے عمل میں جمود اور کمزورمعاشی اشاریے شامل ہیں۔انہوں نے لیبیا کے تمام سیاسی، قبائلی اور مقامی فریقین پر زور دیا کہ وہ جامع قومی مکالمے کے ذریعے باہمی اختلافات دور کریں اور ایک مشترکہ سیاسی راستہ اختیار کریں۔

پاکستانی نمائندہ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے مشن برائے لیبیا (یو این ایس ایم آئی ایل ) کو چاہیے کہ وہ ایک فعال اور غیر جانبدار کردار ادا کرتے ہوئے تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لائے تاکہ طرابلس سمیت پورے لیبیا میں امن کا قیام ممکن ہو۔انہوں نے لیبیا کے منجمد اثاثوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2769 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں موجود دوبارہ سرمایہ کاری سے متعلق ہدایات تمام متعلقہ عالمی مالیاتی اداروں تک پہنچائی جائیں تاکہ لیبیا انویسٹمنٹ اتھارٹی کو ان اثاثوں کے انتظام میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

پاکستانی نمائندہ نے کہا کہ ہم پُرامید ہیں کہ تمام فریقین اپنی ذمہ داریاں خلوصِ نیت سے نبھائیں گے تاکہ لیبیا کے عوام اپنے جائز خوابوں کی تعبیر پا سکیں اور ملک ایک پُرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن ہو سکے۔

 

مزید خبریں
جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے کی جانب سے ترکیہ وظائف 2026 کیلئے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد
جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے کی جانب سے ترکیہ وظائف 2026 کیلئے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے نے ترکیہ وظائف 2026 کے لیے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد کیا جس میں نئے منتخب طلبہ، ترکیہ میں زیر تعلیم رہنے والے سابق پاکستانی طلبہ اور سفارتخانے کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ترکیہ وظائف حکومت جمہوریہ ترکیہ کی جانب سے بیرون ملک ترک باشندوں اور متعلقہ برادریوں کے امور کے ادارے کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں جن کے تحت بین الاقوامی طلبہ کو ترکیہ کی ممتاز جامعات میں انڈر گریجویٹ، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ سال 2026ء میں پاکستان بھر سے 112 طلبہ کو ترکیہ وظائف کے لیے منتخب کیا گیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ تعارفی پروگرام کا مقصد اسلام آباد اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے منتخب طلبہ کو ترکیہ میں اعلیٰ تعلیم کے آغاز سے قبل ضروری معلومات اور رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ پروگرام کا آغاز جمہوریہ ترکیہ کے سفیر کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں ترکیہ وظائف کے تعلیمی حلقے میں خوش آمدید کہا۔ سفیر نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلیمی اور عوامی روابط کی اہمیت پر زور دیا اور طلبہ کو ترکیہ میں اپنے تعلیمی تجربے سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر ترک سابق طلبہ انجمن کے صدر نے بھی طلبہ سے خطاب کیا اور اپنے تجربات کی روشنی میں انہیں ترکیہ میں تعلیمی زندگی اور دستیاب مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعلیمی روابط کے فروغ میں سابق طلبہ کے کردار کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں سفارتخانے کے دفتر برائے تعلیمی مشاورت کی جانب سے طلبہ کے لیے خصوصی تعارفی نشست منعقد کی گئی جس میں پاکستان سے ترکیہ روانگی کی تیاری، ترکیہ پہنچنے کے بعد ابتدائی مراحل، جامعات میں تعلیمی و سماجی زندگی سے ہم آہنگی اور کامیاب تعلیمی سفر کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کی گئی۔ پروگرام کے دوران منتخب طلبہ نے اپنا تعارف بھی کرایا اور اپنے تعلیمی پس منظر کے ساتھ ان ترک جامعات اور تعلیمی پروگراموں کے بارے میں بتایا جن میں وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔ نشست نے طلبہ کو ایک دوسرے سے متعارف ہونے اور روانگی سے قبل ترکیہ وظائف کے سابق طلبہ اور دیگر اراکین سے رابطہ قائم کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ سفارتخانہ ترکیہ نے تمام کامیاب امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے تعلیمی سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ طلبہ پر زور دیا گیا کہ وہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی کی نمائندگی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سفارتخانہ جمہوریہ ترکیہ نے ترکیہ وظائف 2026 کے تمام منتخب طلبہ کے لیے ان کی تعلیم اور مستقبل میں کامیابی کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔