موسمیاتی تبدیلی،ناقص خوراک،آلودہ پانی و دیگر مسائل گیسٹرو ،یرقان و متعدد بیماریوں کا باعث ہیں، ماہرین صحت

ملتان۔ 24 اگست (اے پی پی):موسم کی تبدیلی یا بارش کے سیزن میں بعض بیماریوں کے وائرل ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔بچوں میں قوت مدافعت کم ہونے کے باعث یہ موسمی بیماریاں ان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔آج کل حبس اور بارش کا موسم ہے اس لئے بچوں کو ان سے بچانے کےلئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ماہرین صحت کے مطابق جنوبی پنجاب کے دور …

ملتان۔ 24 اگست (اے پی پی):موسم کی تبدیلی یا بارش کے سیزن میں بعض بیماریوں کے وائرل ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔بچوں میں قوت مدافعت کم ہونے کے باعث یہ موسمی بیماریاں ان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔آج کل حبس اور بارش کا موسم ہے اس لئے بچوں کو ان سے بچانے کےلئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ماہرین صحت کے مطابق جنوبی پنجاب کے دور دراز کے علاقوں میں جہاں علاج معالجے اور صاف پانی کی سہولیات کا فقدان ہے وہاں بچوں پر گیسٹرو،یرقان،نزلہ،بخار اور دیگر خطرناک بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔

جام پور،ڈیرہ غازیخان،روجھان ،علی پور،خانیوال،راجن پور،مظفر گڑھ اور لیہ سمیت دیگر دور دراز کے نواحی علاقوں کے بچے ان بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔چلڈرن ہسپتال ملتان کے معروف (پیڈزگیسٹروانٹرالوجسٹ) چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر غازی کھوسہ نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ چلڈرن ہسپتال ملتان میں اگرچہ سندھ،بلوچستان اور دیگر علاقوں سے بھی مریض بچے لائے جاتے ہیں تاہم زیادہ بچے جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں سے رپورٹ ہوتے ہیں۔ڈاکٹر غازی کا کہنا تھا کہ بچوں کےلئے گیسٹرو اور یرقان ایک خطرناک بیماری ہے۔صحت کی سہولیات،آلودہ پانی اور صفائی کے ناقص انتظام کے باعث دیہاتی علاقوں کے بچوں میں گیسٹرو اور یرقان عام ہو رہا ہے۔

یہ دونوں بیماریاں خطرناک ہیں،جس کا فوری علاج ضروری ہے۔ڈاکٹر غازی کھوسہ نے بتایا کہ چلڈرن ہسپتال ملتان کے گیسٹرو وارڈ میں ڈی ہائیڈریشن کے علاج کےلئے تمام وسائل کے ساتھ مفت ادویات ،بلڈ اور دیگر سہولیات ہر وقت مہیا کی جاتی ہیں۔۔جہاں ڈاکٹرز اور نرسز کی ایمر جنسی کی سہولت 24 گھنٹے دستیاب ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گیسٹرو میں نمکیات اور پانی کی کمی واقع ہوتی ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتی ہے ،اس صورتحال سے بچنے کےلئے بچے کو فوری طور پر ORS دے کر قریبی ڈاکٹر یا ہسپتال سے رابطہ کرنا چاہئے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو تمام قسم کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کریں۔جو بچوں کی صحت کےلئے انتہائی ضروری ہے۔

ڈاکٹر غازی کا مزید کہنا تھا کہ اگست ستمبر یا عموماً بارش یا سیلاب کے موسم میں ڈینگی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔۔اس سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر بچوں اور بڑوں کےلئے بہت ضروری ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اکثر والدین اپنے بچوں کے بارے میں پریشانی کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے بچے کے قد میں مناسب اضافہ نہیں ہو رہا۔زیادہ تر بچے دیہات یا جنوبی پنجاب کے ان علاقوں سے ہوتے ہیں جہاں خوراک ،صاف پانی اور دیگر عوامل اور مسائل کی وجہ سے ان کے قد متاثر ہوتے ہیں۔اگرچہ یہ مسئلہ موروثی بھی ہو سکتا ہے لیکن بچوں کی بہتر نشوونما کےلئے بہتر خوراک اشد ضروری ہے۔

خوراک اور نیند کی کمی کی صورت میں بچے کی مناسب نشوونما اور قد میں اضافہ نہیں ہوتا۔خوراک اور نیند کی کمی کے ساتھ وٹامن ڈی،پروٹین ،آئرن اور کیلشیم کی کمی سے بھی بچے کا قد نہیں بڑھتا۔۔ڈاکٹر غازی کا کہنا تھا کہ پیدائش سے لے کر پہلے 5 سال بچوں کے قد بڑھانے کےلئے بہت اہم ہیں۔اس لئے بچے کی صحت پر خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے۔”بچوں کی صحت کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے بھی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں مریم نواز ہیلتھ کلینکس ،کلینک آن وہیل اور ضلعی و تحصیل سطح پر ہسپتالوں کو دی جانے والی صحت کی سہولیات سے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔

راجن پور کے دور افتادہ علاقے مرغائی کے رہائشی زاہد شہزاد نے راجن پور ہسپتال میں صحت کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل ان کے بچے کا علاج اسی ہسپتال میں ہوا،انہیں ملتان جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ڈی ایچ کیو ہسپتال ضلع راجن پور کے میڈیکل سپرینٹڈنٹ ڈاکٹر جام خلیل احمد نے اے پی پی کو بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے دور دراز ضلعوں اور علاقوں کے ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات پر فوکس ہے۔بالخصوص بچوں کی صحت کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ہسپتال راجن پور میں تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے 50 بستروں پر مشتمل وارڈ سمیت ایک بہترین پیڈز وارڈ اور نرسری بھی یہاں مکمل فعال ہے،علاوہ ازیں آئیسولیشن رومز بھی مہیا کئے گئے ہیں جہاں بچوں کے دو ماہر ڈاکٹرز اور قابل سٹاف ہر وقت موجود رہتا ہے ۔علاوہ ازیں ہر قسم کی سرجری اور ادویات کا سٹاک بھی وافر مقدار میں موجود یے ۔ڈاکٹر خلیل نے بتایا کہ ناقص خوراک و پانی سے بچے بہت متاثر ہوتے ہیں۔

جس سے یہاں یرقان ،گیسٹرو یا ڈائریا کا مرض بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے،لیکن ابھی تک ہسپتال میں اس مرض میں مبتلا بچے زیادہ تعداد میں رپورٹ نہیں ہو رہے۔راجن پور ہسپتال کے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر حشمت خان کا کہنا تھا کہ بچوں میں قوت مدافعت کم ہونے کے باعث ان پر مختلف بیماریوں کا حملہ ہوتا ہے۔جس کےلئے احتیاط بہت ضروری ہے۔ڈاکٹر حشمت نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو باہر کی چیزیں ،برگر،پیزاا و دیگر اشیاء کھلانے سے اجتناب کیا جائے۔باہر کی غیر صحت افزا کھانے یا اشیاء سے بچوں میں گیسٹرو،یرقان اور پیٹ کی بہت سی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں ۔