مالے ۔ 25 جولائی (اے پی پی)پاکستان اور مالدیپ نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور سارک کے کردار کو مزید موثر بنانے کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق رائے کیا ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے منگل کو یہاں مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تجارت، تعلیم، سیاحت، دفاع اور عوام کے عوام …
وزیراعظم محمد نوازشریف کی مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
مالے ۔ 25 جولائی (اے پی پی)پاکستان اور مالدیپ نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور سارک کے کردار کو مزید موثر بنانے کیلئے ملکر کام کرنے پر اتفاق رائے کیا ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے منگل کو یہاں مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تجارت، تعلیم، سیاحت، دفاع اور عوام کے عوام سے رابطوں سمیت باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات میں مزید اضافہ اور استحکام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم کی دعوت پر مالدیپ کے تین روزہ سرکاری دورہ پر ہیں اور وہ (آج) 26 جولائی کو مالدیپ کے 52 ویں یوم آزادی کی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرینگے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور دہشت گردی جیسے مسائل پر قابو پانے کے حوالے سے دونوں ممالک یکساں موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا کی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے ملکر کام کیا جائے گا تاکہ جنوبی ایشیا کے خطے کو پرامن اور خوشحال بنانے کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی گزشتہ سارک کانفرنس کے التواءکے موقف کے باعث بھارت نے پہلی دفعہ سارک کی تنظیم کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس نے گزشتہ چند سالوں میں چار مرتبہ اس طرح کے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے سارک کے قو انین کی خلاف ورزی کی ہے جس سے باہمی مسائل کے خاتمے کے موقف کو نقصان پہنچا ہے۔








