اسلام آباد ۔ 28 جولائی (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی زاہد حامد نے کہا ہے کہ درختوں کے بغیر عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے منفی ماحولیاتی ، معاشی اور سماجی اثرات سے نمٹنا ممکن نہیں۔ تاہم ان اثرات سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہر حال میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں واقع …
موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنا ممکن نہیں، جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور انکا تحفظ ناگزیز ہے،زاہد حامد

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 جولائی (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی زاہد حامد نے کہا ہے کہ درختوں کے بغیر عالمی حدت کے باعث رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے منفی ماحولیاتی ، معاشی اور سماجی اثرات سے نمٹنا ممکن نہیں۔ تاہم ان اثرات سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہر حال میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں واقع روز ائنڈ جسمین پارک میں مون سون شجرکاری مہم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے جمعہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کل رقبے کا صرف پانچ فیصد حصہ پر جنگلات ہیں، جو کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق پچیس فیصدہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف موجودہ جنگلات کی حفاظت کریں بلکہ پورے ملک میں بھر پور شجرکاری کریں۔








