اسلام آباد ۔ 28 جولائی (اے پی پی) مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں نے پانامہ پیپرز کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) 4 جون 2018ءتک اپنا مینڈیٹ مکمل کرے گی،آج کا دن تاریخی نہیں تاریک دن ہے، قوم کے حق حاکمیت کو …
مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں احسن اقبال، بیرسٹر ظفر اللہ، خواجہ سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی اور انوشہ رحمن کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 جولائی (اے پی پی) مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں نے پانامہ پیپرز کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) 4 جون 2018ءتک اپنا مینڈیٹ مکمل کرے گی،آج کا دن تاریخی نہیں تاریک دن ہے، قوم کے حق حاکمیت کو پامال کیا گیا ہے، ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا، عدالت کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں گے، نوازشریف نے جو رقم اپنے بیٹے سے لی ہی نہیں اس کوبنیاد بنا کر نااہل قرار دے دیا گیا،یہ متنازعہ بات ہے اس کو جواز ہی نہیں بنایا جا سکتا تھا، ، پاکستان کو صادق اور امین کے راستے پر ڈال دیا گیا ہے، اب یہ سوال ہر ایک سے بار بار پوچھا جائے گا، اور ہم پاکستان کے مینڈیٹ کا دفاع کرینگے، آئندہ وزیراعظم کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی میں کیا جائے گا، عمران خان آپ کی حیثیت ایک مہرے سے زیادہ نہیں، یہ نااہلی کرپشن، عہدے کے ناجائز استعمال کی وجہ سے نہیں ہوئی، ہمیں عدالت کے ذریعے نااہل کرایا جا سکتا ہے مگر عوام کی عدالت سے کوئی نااہل قرار نہیں دلایا جا سکتا ۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب ہاﺅس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، زاہد حامد، شاہد خاقان عباسی، انوشہ رحمن اور بیرسٹر ظفر اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ماہر قانون بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ عمران خان، شیخ رشید احمد اور سراج الحق کی پٹیشن کے بعد فیصلہ کیا گیا۔ نوازشریف کے لندن کے فلیٹس، ان کی تقاریر کے درمیان تضادات کو جواز بنا کر فیصلہ کیا گیا۔ نوازشریف کا موقف تھا کہ ہم کسی تکنیکی معاملے میں نہیں پڑیں گے، ہمارا دامن صاف ہے، ہم عدالت جائیں گے، 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت دھرنوں سے اقتدار حاصل نہ کر سکی، عدالتوں کو اس معاملے میں نہیں پڑنا چاہئے، ہم نے اس کو اس لئے قبول کیا تھا کہ یہ الزام نہ لگے کہ ہم اس سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے ہمارے خلاف ماضی میں ریفرنس بھی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سورس دستاویزات پر بنائی گئی، تینوں ججوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کی سماعت کی۔ پانچ ججوں کی طرف سے فیصلہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔








