نیویارک۔9ستمبر (اے پی پی):نئی مغربی تحقیق نے نشاندہی کی ہے کہ خلائی پرواز انسانی جسم میں مالیکیول کی سطح پر تبدیلیوں کا سبب بنتی ہیں جن میں ڈی این اے کا نقصان بھی شامل ہے جو زمین پر واپس آنے کے بعد ظاہر ہو سکتا ہے ، دماغ کی ساخت اور حجم میں تبدیلی، ان میں سے کچھ تبدیلیاں کشش ثقل کے ساتھ دوبارہ موافقت کے بعد بھی باقی رہتی …
خلائی پرواز انسانی جسم میں مالیکیول کی سطح پر تبدیلیوں کا سبب بنتی ہے جن میں ڈی این اے کا نقصان بھی شامل ہے ،تحقیقی رپورٹ

مزید خبریں
نیویارک۔9ستمبر (اے پی پی):نئی مغربی تحقیق نے نشاندہی کی ہے کہ خلائی پرواز انسانی جسم میں مالیکیول کی سطح پر تبدیلیوں کا سبب بنتی ہیں جن میں ڈی این اے کا نقصان بھی شامل ہے جو زمین پر واپس آنے کے بعد ظاہر ہو سکتا ہے ، دماغ کی ساخت اور حجم میں تبدیلی، ان میں سے کچھ تبدیلیاں کشش ثقل کے ساتھ دوبارہ موافقت کے بعد بھی باقی رہتی ہیں۔رائٹرز کے مطابق بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے سپیس ایکس کی بحالی کے چار مشنز کے دوران لئے گئے نمونوں پر مشتمل ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خلائی سفر انسانی خون اور مدافعتی نظام کی صحت کے لیے اہم خون بنانے والے سٹیم سیلز کی عمر بڑھنے میں تیزی لاتا ہے۔
ناسا کے فنڈڈ مطالعے میں سائنسدانوں نے دسمبر 2021، جولائی 2022، نومبر 2022 اور مارچ 2023 میں 30 سے 45 دن تک جاری رہنے والے خلائی مشنزکے دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں کو ٹریک کرنے کے لیے انفرادی عطیہ دہندگان کے بون میرو سے سٹیم سیلز کا مشاہدہ کیا جس سے چابت ہوا کہ خلاء میں بھیجے گئے خلیے صحت مند نئے خلیات بنانے کی اپنی صلاحیت کھو چکے تھے ، ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان کے لیے زیادہ حساس ہو گئے اور اپنے کروموسومز میں بڑھاپے کے شواہد سامنے آئے جو دھاگے کی طرح کی ساخت ہیں اور خلیے سے خلیے تک جینیاتی معلومات لے کر جاتے ہیں۔
محققین نے ان تبدیلیوں کو مائیکرو گریوٹی حالات اور خلائی پرواز کے دوران تابکاری کی بڑھتے ہوئے اثرات سے منسوب کیا۔سٹیم سیلز جسم کے اندر ایسے خلیات ہیں جو مختلف قسم کے خلیوں کی نشو ونما کر سکتے ہیں۔ نئی تحقیق میں جن لوگوں کی جانچ کی گئی ان کے ہر سیل کی نہیں بلکہ ان کے بہت سے اعضا اور بافتوں میں مقیم ان ٹشو زکی مخصوص قسم کا مطالعہ کیا گیا جو اعضا یا بافتوں میں سیل کی اقسام کو جنم دے سکتے ہیں ۔
مطالعہ شدہ خلیے جنہیں ہیومن ہیماٹوپوئٹک اسٹیم اور پروجنیٹر سیل کہا جاتا ہے، ہڈیوں کے گودے میں موجود تمام خون کے خلیے بناتے ہیں،ہڈیوں کے اندر رہنے والے نرم اور فیٹی ٹشو بشمول خون کے سرخ خلیے جو آکسیجن لے جاتے ہیںاور مدافعتی نظام کے سفید خلیے جو انفیکشن سے لڑتے ہیں ۔سائنسدانوں کے مطابق خلائی پرواز کے دوران خلیات حد سے زیادہ فعال ہو گئے، ان کے ذخائر ختم ہو گئے اور ان کی آرام کرنے اور صحت یاب ہونے کی صلاحیت ختم ہو گئی۔
محققین کے مطابق یہ ایک خصوصیت ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ سٹیم سیلز کو دوبارہ تخلیق کرنے دیتی ہے۔محققین نے مائٹوکونڈریا کے اندر سوزش اور تناؤ کے آثار بھی دکھائے ۔








