رکن قومی اسمبلی منیزہ حسن کی زیرصدارت پاکستان-آئرلینڈ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا افتتاحی اجلاس

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):پاکستان-آئرلینڈ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا افتتاحی اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی منیزہ حسن نے کی۔ اجلاس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر غور کرنا تھا۔اجلاس میں گروپ کی اراکین نزہت صادق، زہرہ ودود فاطمی، بیرسٹر دانیال چوہدری، آسیہ ناز تنولی،سحر کامران …

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):پاکستان-آئرلینڈ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا افتتاحی اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی منیزہ حسن نے کی۔ اجلاس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر غور کرنا تھا۔اجلاس میں گروپ کی اراکین نزہت صادق، زہرہ ودود فاطمی، بیرسٹر دانیال چوہدری، آسیہ ناز تنولی،سحر کامران اور ہما اختر چغتائی نے شرکت کی۔

اس موقع پر آئرلینڈ میں پاکستان کی سفیر عائشہ فاروقی نے دوطرفہ تعلقات پر جامع بریفنگ دی جس میں موجودہ روابط اور مستقبل میں تعاون کے ممکنہ شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔منیزہ حسن نے، بطور کنوینر گروپ، اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی سطح پر ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا اور آئرش پارلیمنٹ میں موجود ہم منصب گروپ کے ساتھ جلد ورچوئل میٹنگ کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مربوط ملاقاتیں پارلیمانی سفارت کاری کو مضبوط بنانے اور عملی و مثبت نتائج کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گی۔

گروپ کے اراکین نے آئرلینڈ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو سراہا اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مزید سہولتوں کی ضرورت پر زور دیا۔ اراکین نے تعلیم، تحقیق، ثقافت، کھیل، زراعت اور اکیڈمک پارٹنرشپ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔اجلاس میں آئرلینڈ میں پہلے منتخب ہونے والے پاکستانی نژاد کونسلر عمار علی کی کامیابی کو بھی سراہا گیا جو بیرون ملک پاکستانیوں کی قابل فخر خدمات کا مظہر ہے۔

اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئرش پارلیمنٹ کے ہم منصب گروپ سے مضبوط روابط دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعاون کی راہ ہموار کریں گے۔ تجارت، تعلیم، ثقافت، ماحولیاتی تحفظ، زراعت اور سمندر پار پاکستانیوں کی معاونت جیسے شعبوں میں مشترکہ اقدامات سے عوامی سطح پر رابطے مضبوط ہوں گے اور دیرپا شراکت داری کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔

مزید خبریں