اسلام آباد ۔ یکم اگست (اے پی پی) سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی نااہلی سے متعلق مقدمہ کی سماعت آج بدھ کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے کہاہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی پر امیدوار کی نااہلی ہوسکتی ہے، پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس کے تحت ممنوعہ ذرائع سے حاصل کردہ فنڈز ضبط کئے جاسکتے ہیں لیکن اس میں نااہلی کی …
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی نااہلی سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ریمارکس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اگست (اے پی پی) سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی نااہلی سے متعلق مقدمہ کی سماعت آج بدھ کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے کہاہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی پر امیدوار کی نااہلی ہوسکتی ہے، پولیٹیکل پارٹیز آرڈیننس کے تحت ممنوعہ ذرائع سے حاصل کردہ فنڈز ضبط کئے جاسکتے ہیں لیکن اس میں نااہلی کی شق موجود نہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو پارٹی فنڈنگ کے بارے میں غلط سرٹیفیکیٹ دینے پر نااہل کیا جا سکتا ہے۔ آرڈیننس کے مطابق اگر غیر ملکی فنڈنگ ثابت ہو جائے تو سیاسی جماعت کے خلاف ریفرنس بھیجا جاسکتا ہے لیکن یہ درخواست گزار کی استدعا نہیں، د رخواست گزارکے وکیل نے کہاکہ عدالت نے پانچ سو روپے کا بنک اکاﺅنٹ چھپانے پر لوگوں کو نا اہل قرار دیا، یہاں کاغذات کہہ رہے ہیں کہ وہ جعلی ہیں لازمی نہیں ،ہر کیس میں جے آئی ٹی بنائی جائے،پی ٹی آئی کوغیرملکی فنڈنگ پارٹی قراردیا جائے منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پرحنیف عباسی کے وکیل ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے پیش ہوکر اپنے دلائل جاری رکھے اورموقف اپنایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے غیر ملکی فنڈ کی وصولی فارا کے ریکارڈ سے ثابت ہے،لیکن پی ٹی آئی نے اس عدالت کے سامنے جعلی دستاویزات جمع کی ہیں جوجعلسازی کے زمرے میں آتاہے ،عدالت جانتی ہے کہ عدالتی حکم پر ایس ای سی پی کے چیئر مین کے خلاف کارروائی ہورہی ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں جعلسازی کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا لیکن اس سلسلے میں کوئی بھی کارروائی ضابطہ فوجداری میں ہی ہوسکتی ہے۔








