اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کو بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک 88 ملین ڈالر کی لاگت سے 30اکتوبر 2025 تک مکمل ہوگا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید امین الحق کی سربراہی میں جمعرات کو اسلام آباد آئی ٹی پارک، چک شہزاد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد آئی ٹی پارک منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی …
سید امین الحق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کو بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک 88 ملین ڈالر کی لاگت سے 30اکتوبر 2025 تک مکمل ہوگا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید امین الحق کی سربراہی میں جمعرات کو اسلام آباد آئی ٹی پارک، چک شہزاد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسلام آباد آئی ٹی پارک منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور کمیٹی نے سائٹ کا دورہ بھی کیا۔پراجیکٹ منیجر نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد آئی ٹی پارک کا معاہدہ 2017 میں پاکستان اور کورین ایگزم بینک کے مابین طے پایا تھا۔
منصوبے پر عملی کام 2022 میں شروع ہوا۔ اس منصوبے کی کل لاگت 88 ملین ڈالر ہے، جس میں سے 76.3 ملین ڈالر کورین ایگزم بینک نے آسان قرضے کے طور پر فراہم کئے جبکہ باقی 12.5 ملین ڈالر پاکستان کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)سے پورے کئے جا رہے ہیں۔ یہ آسان قرضہ پاکستان کو 30 سال میں 0.05 فیصد مارک اپ کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔ پروجیکٹ منیجر نے بتایا کہ منصوبہ اصل میں 30 ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن کچھ تاخیر کی وجہ سے اس کی تکمیل کا وقت بڑھا کر 36 ماہ کر دیا گیا اور اب اسے 30 اکتوبر 2025 تک مکمل کیا جائے گا۔
تاخیر کی وجوہات میں 2022 میں شدید بارشیں، درآمدی پابندیوں کی وجہ سے مشینری کی ترسیل میں تاخیر، کورین کرنسی کی قدر میں کمی، ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مقامی ٹھیکیداروں سے متعلق مسائل شامل ہیں۔کمیٹی نے زور دیا کہ یہ منصوبہ قومی مفاد میں ہے کیونکہ یہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرے گا اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو بڑھائے گا جس سے ملک کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہوگی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ منصوبے کو مزید تاخیر کے بغیر جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ سائٹ کے دورے کے دوران کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ عالمی معیار کے مطابق ایک جدید سہولت کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل ملک کے لئے اس کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔اجلاس میں "دی پریوینشن آف آبسینٹی اینڈ انڈیسنسی ان ڈیجیٹل میڈیا بل، 2025” کو محرک شاہدہ رحمانی کی عدم موجودگی کی وجہ سے موخر کر دیا گیا۔کمیٹی نے سب کمیٹی کو اسی دائرہ کار کے ساتھ دوبارہ تشکیل دیا لیکن اس کی ساخت میں تبدیلی کی گئی۔ نئی سب کمیٹی میں کنوینئر ایم این اےڈاکٹر ذوالفقار بھٹی ،اراکین میں رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی، احمد عتیق انوراور ڈاکٹر مہیش کمار ملانی شامل ہیں۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ذوالفقار علی بھٹی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، احمد سلیم صدیقی، شرمیلا فاروقی، شازیہ فرید کے علاوہ وزارت اور اس کے متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔








