ملکی بیرونی قرضوں میں 35 ارب ڈالر اضافہ کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں،وزارت خزانہ

اسلام آباد ۔ 2 اگست (اے پی پی) وزارت خزانہ نے ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھاکہ گذشتہ چار سال کے دوران ملکی بیرونی قرضوں میں 35 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ بدھ کو یہاں جاری بیان میں وزارت خزانہ کے ترجمان نے ان رپورٹس کو گمراہ کن اور حقائق …

اسلام آباد ۔ 2 اگست (اے پی پی) وزارت خزانہ نے ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھاکہ گذشتہ چار سال کے دوران ملکی بیرونی قرضوں میں 35 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ بدھ کو یہاں جاری بیان میں وزارت خزانہ کے ترجمان نے ان رپورٹس کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا جس میں بتایا گیا کہ جون 2017ءکے اختتام تک پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 79.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور یہ کہ ایک سال کے عرصہ میں 10.1 ارب ڈالرکے قرضے حاصل کئے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ ان رپورٹوں میں مالی سال 2016-17ءکے دوران قرضوں کے حجم میں اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق 2014-15ءمیں ڈیٹ سروسنگ 5.4 ارب ڈالر، 2015-16ءمیں 5.31 ارب ڈالر اور 2016-17ءمیں اس کا حجم سات ارب ڈالر تک پہنچا۔ ان رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں قرضے لینے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ترجمان نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان رپورٹوں میں جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں وہ غلط معلومات پر مبنی ہے، 79.2 ارب ڈالر صرف ایک اندازہ ہے جس میں نجی شعبہ کے بیرونی قرضے اور ذمہ داریاں بھی شامل ہیں، مارچ 2017ءکے اختتام پر بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 79.2 ارب ڈالر نہیں بلکہ 58.4 ارب ڈالر تھا۔

Leave a Reply