این سی آر سی کی جانب سے یونیسیف اور ہالینڈ کے تعاون سے  بے گھر اور مہاجر بچوں کی صورتحال پر جامع رپورٹ اور پالیسی بریف کا اجراء

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے حقوق اطفال (این سی آر سی ) نے منگل کو یہاں یونیسیف پاکستان اور حکومت ہالینڈ کے تعاون سے اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے بچوں، تارکین وطن افغان بچوں اور پاکستان میں زبردستی بے گھر ہونے والے بچوں کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کیلئے جامع سٹڈی رپورٹ اور پالیسی بریف کا اجراء کیا ۔ یہ رپورٹ پاکستان کے کچھ …

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے حقوق اطفال (این سی آر سی ) نے منگل کو یہاں یونیسیف پاکستان اور حکومت ہالینڈ کے تعاون سے اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے بچوں، تارکین وطن افغان بچوں اور پاکستان میں زبردستی بے گھر ہونے والے بچوں کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کیلئے جامع سٹڈی رپورٹ اور پالیسی بریف کا اجراء کیا ۔

یہ رپورٹ پاکستان کے کچھ انتہائی پسماندہ بچوں کے زندہ تجربات، کمزوریوں اور تحفظ کی ضروریات کے بارے میں پہلا مضبوط ثبوت فراہم کرتی ہے جن میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے بچے، افغان مہاجر بچے اور تنازعات، قدرتی آفات اور دیگر بحرانوں کی وجہ سے زبردستی بے گھر ہونے والے شامل ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یونیسف پاکستان کی ڈپٹی نمائندہ شرمیلا رسول نے کہا کہ ہر بچہ سب سے پہلے اور سب سے اہم ہوتا ہے۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہ کون ہے یا کہاں سے آیا ہے۔ ہر بچہ تحفظ، وقار اور اپنے حقوق کا مستحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کے تعاون اور نیدرلینڈز کی حمایت سے تیار کی گئی یہ تحقیق ہمیں جامع نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ثبوت فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان میں کوئی بچہ پیچھے نہ رہے۔

رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ بچوں کے لیے نقل مکانی محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی نہیں بلکہ اس کا نتیجہ اکثر شناخت کے نقصان، تعلیم میں خلل، صحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی اور چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادی، تشدد اور استحصال کے بڑھ جانے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں 3.6 ملین افغان باشندے رہتے ہیں جن میں سے اکثر نابالغ ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں پاکستانی بچے سیلاب، تنازعات اور دیگر ہنگامی صورتحال کے باعث بے گھر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے علاوہ پالیسی بریف میں پاکستان کے پالیسی سازوں اور سٹیک ہولڈرز کو کارروائی کیلئے پانچ اہم مطالبات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومیت یا قانونی حیثیت سے قطع نظر تمام بچوں کے لیے تحفظ کی خدمات تک رسائی میں اضافہ کیا جائے۔

بچوں کے تحفظ کے ملکی نظام کو پائیدار، مربوط اور جامع طریقوں کے ذریعے مضبوط کیا جائے ۔ڈیٹا شیئرنگ کو بہتر بنا کر اور چائلڈ پروٹیکشن انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (سی پی آئی ایم ایس) جیسے سسٹمز کا استعمال کرتے ہوئے سٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنائیں۔ حکومت اور معاشرے کی تمام سطحوں پر آگاہی اور وکالت کو یقینی بنائیں کہ قوانین اور تحفظات بے گھر اور نقل مکانی کرنے والے بچوں پر یکساں طور پر لاگو ہوں۔

دستیاب خدمات کے بارے میں بچوں اور خاندانوں کے ساتھ روابط کو بہتر بنائیں۔ این سی آر سی کی چیئرپرسن سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ اپنے پس منظر یا نسل سے قطع نظر عزت، تحفظ اور ترقی کی منازل طے کرنے کے مواقع کا مستحق ہے۔

یہ مطالعہ ایک اختتام نہیں بلکہ ایک آغاز ہے۔ ہم اس رپورٹ میں حاصل کردہ ثبوتوں کو قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بچہ نظروں سے اوجھل یا پیچھے نہ رہے۔

اس موقع پر این سی آر سی پنجاب کی رکن ڈاکٹر مہک نعیم کے زیر انتظام پینل ڈسکشن ہوئی جس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر)، کمشنریٹ برائے افغان مہاجرین (سی اے آر)، خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن (کے پی سی پی ڈبلیو سی) اور محکمہ سماجی بہبود بلوچستان کے نمائندے نے حصہ لیا۔  پینلسٹس نے نقل مکانی کے تناظر میں بچوں کے حقوق کو آگے بڑھانے میں چیلنجز اور مواقع پر غور کیا۔