امریکی سینیٹ میں فنڈنگ بل مسترد، شٹ ڈاؤن کا آغاز، ، فوجیوں کی تنخواہیں بند ، 7 لاکھ ملازمین کو فارغ کئے جانے کا امکان، ڈیموکریٹس کو سرکاری پروگرامز اور تنخواہوں میں مزید کٹوتیوں کے ذریعے سزا دی جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن۔1اکتوبر (اے پی پی):امریکی سینیٹ میں فنڈنگ بل مسترد ہونے کے بعد وفاقی اداروں کا شٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ۔ رائٹرز کے مطابق یہ بحران ایک طویل اور کٹھن جمود کی شکل اختیار کرسکتا ہے جس سے ہزاروں وفاقی ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے، یہ 1981 کے بعد 15واں شٹ ڈاؤن ہے جس کے دوران مختلف ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر کی روزگار رپورٹ جاری نہیں …

واشنگٹن۔1اکتوبر (اے پی پی):امریکی سینیٹ میں فنڈنگ بل مسترد ہونے کے بعد وفاقی اداروں کا شٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ۔ رائٹرز کے مطابق یہ بحران ایک طویل اور کٹھن جمود کی شکل اختیار کرسکتا ہے جس سے ہزاروں وفاقی ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے، یہ 1981 کے بعد 15واں شٹ ڈاؤن ہے جس کے دوران مختلف ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر کی روزگار رپورٹ جاری نہیں ہوسکے گی، فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد میں کمی ہو گی، سائنسی تحقیق معطل ہو جائے گی، امریکی فوجیوں کی تنخواہیں روک لی جائیں گی اور 7.5 لاکھ وفاقی ملازمین کو فارغ کیا جائے گا جس سے روزانہ 400 ملین ڈالر کا نقصان ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ نے منگل کی رات ایک عارضی فنڈنگ بل کو مسترد کردیا جس سے حکومت کو 21 نومبر تک چلانے کے لیے فنڈز مہیا کیے جاسکتے تھے۔ ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی جس کی وجہ ریپبلکنز کا بل میں لاکھوں امریکیوں کے لیے صحت کے فوائد میں توسیع شامل کرنے سے انکار ہے۔ ریپبلکنز کا مؤقف ہے کہ یہ مسئلہ الگ سے حل ہونا چاہیے۔حکومتی فنڈنگ کے لیے اس وقت 1.7 ٹریلین ڈالر درکار ہیں جو کل 7 ٹریلین ڈالر بجٹ کا تقریباً ایک چوتھائی ہے اور زیادہ تر اخراجات صحت، پنشن پروگراموں اور 37.5 ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے پر سود کی ادائیگی میں جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شٹ ڈاؤن ماضی کے بجٹ بحرانوں سے طویل ہوسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس حکام نے دھمکی دی ہے کہ ڈیموکریٹس کو سرکاری پروگرامز اور تنخواہوں میں مزید کٹوتیوں کے ذریعے سزا دی جائے گی۔اس اعلان کے بعد وال اسٹریٹ فیوچرز نیچے آگئے، سونے کی قیمت نے ریکارڈ بنایا اور ایشیائی مارکیٹس میں عدم استحکام دیکھنے میں آیا۔ ڈالر بھی بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آگیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی تاریخ کا سب سے طویل شٹ ڈاؤن دسمبر 2018 اور جنوری 2019 میں 35 دن جاری رہا تھا، جب ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران بارڈر سکیورٹی پر تنازع کھڑا ہوا تھا

۔سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے کہا کہ وہ ہمیں دباؤ میں لانا چاہتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب سینیٹ ریپبلکن لیڈر جان تھون نے کہا کہ یہ مسئلہ سیاسی ہے اور اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ریپبلکنز کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتے ہیں لیکن قانون سازی کے لیے سینیٹ میں 60 ووٹ درکار ہیں اور اس کیلئے کم از کم سات ڈیموکریٹس کی حمایت ضروری ہے تاہم ریپبلکنز کی جانب سے پیش کیا گیا یہ بل 60 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اسے صرف 55 ووٹ مل سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ جو پہلے ہی دسمبر تک تقریباً 3 لاکھ ملازمین کو نکالنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، نے کانگریس میں ڈیموکریٹس کو خبردار کیا ہے کہ شٹ ڈاؤن "ناقابلِ واپسی” اقدامات کی راہ ہموار کرسکتا ہے، جن میں مزید ملازمتوں اور پروگراموں کی کٹوتیاں شامل ہوں گی۔ماہرین کے مطابق موجودہ شدید سیاسی پولرائزیشن فریقین کے لیے کسی معاہدے پر متفق ہونا مزید مشکل بنا رہی ہے۔