ولنگٹن۔3اکتوبر (اے پی پی):نیوزی لینڈ کی حکومت نے مقامی دفاعی شعبے کو فروغ دینے کے لئے دفاعی خریداری کے قوانین میں تبدیلی اور فوجی ٹیکنالوجی کے لئے نیا فنڈ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر دفاع جیوڈتھ کولنز نے ’’دفاعی صنعت کی حکمت عملی‘‘ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا اتنی تیزی سے بدل رہی ہو تو ہمیں اپنی دفاعی فورس …
نیوزی لینڈ کا مقامی دفاعی شعبے کو فروغ دینے کے منصوبے کا اعلان

مزید خبریں
ولنگٹن۔3اکتوبر (اے پی پی):نیوزی لینڈ کی حکومت نے مقامی دفاعی شعبے کو فروغ دینے کے لئے دفاعی خریداری کے قوانین میں تبدیلی اور فوجی ٹیکنالوجی کے لئے نیا فنڈ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر دفاع جیوڈتھ کولنز نے ’’دفاعی صنعت کی حکمت عملی‘‘ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا اتنی تیزی سے بدل رہی ہو تو ہمیں اپنی دفاعی فورس کو لیس کرنے کے طریقے بھی بدلنے ہوں گے اس مقصد کے لئے صنعت کے ساتھ شراکت داری ضروری ہے تاکہ ہم بہتر طور پر آگے بڑھ سکیں،بصورت دیگر یہ ایک غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہو گا۔ نئی حکمتِ عملی کے اہم نکات کے تحت بین الاقوامی دفاعی سپلائرز کو اب یہ لازمی قرار دیا جائے گا کہ وہ مقامی صنعت کو شامل کرنے کے منصوبے پیش کریں تاکہ دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور دیکھ بھال میں مقامی تعاون یقینی بنایا جا سکے۔
دفاعی فورس چھوٹے اور مقامی کاروباروں کے ذریعے ساز و سامان اور نظام کی فراہمی کے مواقع تلاش کرے گی جبکہ اصل سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کو ذیلی ٹھیکے دیئے جائیں گے۔ حکومت 100ملین نیوزی لینڈ سے 300 ملین نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً 58.15 ملین سے 174.45 ملین امریکی ڈالر) کا نیا فنڈ قائم کرے گی جو جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لئے مختص ہوگا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے پاس صلاحیت بھی ہے اور عزم بھی، اب ہمیں ضروری سہولیات فراہم کرنی ہوں گی اور جدت کے راستے کھولنے ہوں گے۔
حکمتِ عملی کے تحت ہر دو سال بعد نیا ’’دفاعی صلاحیتوں کا نیا منصوبہ پیش کیا جائے گا، جس کا اگلا ایڈیشن 2027 میں متوقع ہے۔واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں نیوزی لینڈ کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ چار سالوں میں دفاعی اخراجات میں9 بلین نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً 5 ارب امریکی ڈالر) کا اضافہ کرے گی اور آئندہ 8 سالوں میں اسے مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی ) کا 2 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے جو عالمی سطح پر سٹریٹجک مقابلے کی بڑھتی ہوئی فضا کے باعث کیا جا رہا ہے۔








