غزہ۔22اکتوبر (اے پی پی):غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تحت فریقین میں مزید قیدیوں کی باقیات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق دو مزید اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں جن میں ایک فوجی اور ایک شہری شامل ہے، منگل کو دیر گئے اسرائیل کو واپس کر دی گئیں۔ بدھ کی صبح ان کی شناخت 85 سالہ آریہ زلمانووچ اور 38 سالہ آرمی ماسٹر سارجنٹ تمیر ادار کے طور پر …
غزہ ،جنگ بندی معاہدے کے تحت فریقین میں مزید قیدیوں کی باقیات کا تبادلہ

مزید خبریں
غزہ۔22اکتوبر (اے پی پی):غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تحت فریقین میں مزید قیدیوں کی باقیات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق دو مزید اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں جن میں ایک فوجی اور ایک شہری شامل ہے، منگل کو دیر گئے اسرائیل کو واپس کر دی گئیں۔ بدھ کی صبح ان کی شناخت 85 سالہ آریہ زلمانووچ اور 38 سالہ آرمی ماسٹر سارجنٹ تمیر ادار کے طور پر کی گئی۔
فلسطینی گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل مصر کے ساتھ اہم سرحدی گزر گاہ رفح کو دوبارہ کھولنے سے انکار کر کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یہ لاشیں انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی)نے غزہ میں وصول کی تھیں۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ زلمانووچ کی موت 17 نومبر 2023 کو غزہ میں اسیری کے دوران ہوئی جبکہ تمیر ادار 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل میں لڑائی میں مارا گیا اور ان کی لاش کو واپس فلسطین لے جایا گیا تھا۔
فلسطینی گروپ نے معاہدے کے تحت 15 اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کر دی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق مزید 13افراد کی باقیات اسرائیل کو واپس کیے جانے کی توقع ہے تاہم فلسطینی گروپ نے کہا ہے کہ فلسطینی سرزمین میں وسیع پیمانے پر تباہی اور غزہ کے بعض حصوں پر اسرائیلی فوج کے مسلسل کنٹرول نے لاشوں کی بازیابی کے عمل کو سست کر دیا ہے۔
جنگ بندی معاہدے کے بعد ایک دن میں 20 زندہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔قبل ازیں منگل کو اسرائیلی حراست میں ہلاک ہونے والے 15 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ واپس لائی گئیں جہاں سے طبی ذرائع کے مطابق انہیں شناخت کے لیے ناصر میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل نے اسرائیلی جیلوں سے تقریباً 2000 زندہ فلسطینیوں کو رہا کیا اور مزید 360 مقتول فلسطینیوں کی لاشیں واپس کرنے کاوعدہ کیا ہے۔
ایک فرانزک ٹیم جس نے گزشتہ ہفتے اسرائیل سے واپس آنے والے تقریباً 45 فلسطینیوں کی لاشیں وصول کیں، کہا کہ کچھ ابھی تک بیڑیوں میں بندھے ہوئے ہیں اور ان پر جسمانی زیادتی اور ممکنہ پھانسی کے نشانات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے رفح کراسنگ کو 7 مئی 2024 سے بند کر رکھا ہے جہاں اس وقت تقریباً 10 لاکھ افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔اقوام متحدہ نے فلسطینی سرزمین کو مصر سے جوڑنے والی اس کراسنگ کو انسانی ہمدردی کی رسائی کے لیے دو انتہائی اہم راہداریوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے)نے جنوبی افریقا کی جانب سے ہنگامی درخواست کے بعد اسرائیل کو 24 مئی 2024 کو رفح کراسنگ دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا لیکن وہ تاحال بند ہے ۔








