کراچی کے صارفین کو کسی ریلیف سے محروم کر نے کی باتیں حقائق کے منافی اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے،ترجمان وزارت پاورڈویژن کی وضاحت

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):ترجمان وزارت پاور ڈویژن نے نیپرا کے جائزے کو پورے ملک اور خاص طور پر کراچی کے عوام کے لئے اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔بدھ کوترجمان پاور ڈویژن کے مطابق پاور ڈویژن اس جائزے کو وقت پر فائل کرنے اور میرٹ پر مبنی نکات نیپرا کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق بعض حلقے نیپرا کے کے الیکٹرک کے ملٹی …

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):ترجمان وزارت پاور ڈویژن نے نیپرا کے جائزے کو پورے ملک اور خاص طور پر کراچی کے عوام کے لئے اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔بدھ کوترجمان پاور ڈویژن کے مطابق پاور ڈویژن اس جائزے کو وقت پر فائل کرنے اور میرٹ پر مبنی نکات نیپرا کے سامنے رکھنے پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق بعض حلقے نیپرا کے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کے جائزے کوگمرا کن طور پر پیش کر رہے ہیں اور ایک ریگولیٹری اصلاح کو مالیاتی چال یا صارف پر بوجھ کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق حقیقت میں اتھارٹی کے فیصلے مکمل طور پر مساوات، استحکام اور شعبے کی بہتری کے اصولوں کی روشنی میں ہوئے ہیں۔یہ جائزہ کے الیکٹرک کے ٹیرف فریم ورک کو دوسری ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے فریم ورک کے مطابق لانے کے لیے کیا گیا تھا۔

نیپرا کے جائزے نے ان ٹیرف عناصر کو ختم کیا جو قومی ریگولیٹری معیار کے مطابق نہیں تھے جن میں غیر ملکی کرنسی سے منسلک منافع، نقصانات کی اجازت وغیرہ شامل ہیں۔ نیپرا نے انہیں ختم کر کے یقینی بنایا کہ تمام کمپنیاں وصولی،کارکردگی اور شفافیت کے ایک جیسے اصولوں کے تحت ریگولیٹ ہوں۔ ان اقدامات سے ڈھانچے کے عدم توازن کو درست کیا گیا ہے، ترجمان کے مطابق جائز وصولیوں کو کم نہیں کیا گیا۔ترجمان نے مزید کہا کہ بعض حلقے دعوٰی کر رہے ہیں کہ کہ نیپرا کے فیصلے نے کراچی کے صارفین کو کسی ریلیف سے محروم کر دیاجو بالکل حقائق کے منافی اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ حقیقت میں کے الیکٹرک کا ملٹی ایئر ٹیرف کمپنی کی اپنی آمدنی کی ضروریات سے متعلق ہے، نہ کہ صارف کے ادا کردہ حتمی ٹیرف سے۔

تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں بشمول کے الیکٹرک کے صارفین سے متعلق ٹیرف حکومت پاکستان کی جانب سے قومی یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت طے اور جاری کیے جاتے ہیں۔یہ تاثر کہ نیپرا کا یہ فیصلہ وسائل کی "دوبارہ تقسیم” یا حکومت کی طرف سے کراچی کے بجلی صارفین کو دی جانے والی 7 روپے فی یونٹ سبسڈی کو ختم کرناہے، بھی بالکل غلط ہے، کیونکہ یکساں ٹیرف کے تحت کے الیکٹرک کے صارفین کو سبسڈی اب بھی جاری ہے۔ یہ سبسڈی کی منتقلی ہے، مالیاتی بنیادی اصولوں کی غلط فہمی کو ظاہر کرتی ہے۔

سبسڈی میں کمی کا مطلب فنڈز کی منتقلی نہیں ہے، یہ محض حکومتی اخراجات میں کمی ہے جو کہ قومی بجٹ پر بوجھ ہوتا۔نیپرا کا جائزہ ریگولیٹری غیرجانبداری کو مضبوط کرتا ہےاور یہ فیصلہ حکومتی ہدایت کے تحت نہیں بلکہ اس کے اپنے خودمراجعتی دائرہ کار میں ہوا جس نے اداراتی خودمختاری اور عوامی مفاد کے عزم کی تصدیق کی۔