اقوام متحدہ۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نےوسطی افریقی ملک وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر )کی جانب سے دسمبر میں صدارتی، قانون سازی، علاقائی اور بلدیاتی انتخابات کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، اس اقدام کا مقصد ملک کو مستحکم کرنا ہے جو 60 سال سے زائد عرصہ قبل فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے پرتشدد ادوار سے گزرا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ …
پاکستان کا چیلنجزکے باوجود وسطی افریقی جمہوریہ کی جانب سے دسمبر میں انتخابات کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نےوسطی افریقی ملک وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر )کی جانب سے دسمبر میں صدارتی، قانون سازی، علاقائی اور بلدیاتی انتخابات کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، اس اقدام کا مقصد ملک کو مستحکم کرنا ہے جو 60 سال سے زائد عرصہ قبل فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے پرتشدد ادوار سے گزرا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عثمان جدون نے گزشتہ روز سلامتی کونسل میں وسطی افریقی جمہوریہ کی صورتحال پر ہونے والے مباحثے میں کہا کہ یہ ملک میں جمہوریت اور نمائندہ طرزِ حکومت کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے 2019 کے سیاسی معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی، جس میں مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور 600 سے زائد جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے کا ذکر شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اہم کامیابیاں ہیں جن کے لئے بین الاقوامی برادری کی مسلسل حمایت ضروری ہے۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ان خدشات کی بھی تائید کی جو غیر منظم تخفیف اسلحہ کے اقدامات سے متعلق ظاہر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تخفیف اسلحہ ، ہتھیار ڈالنے اور دوبارہ شمولیت (ڈی ڈی آر ) کا عمل قومی قیادت میں منظم، شفاف اور سماجی و معاشی بحالی سے منسلک ہونا چاہیے تاکہ ملک دوبارہ تشدد کے دائرے میں نہ جائے۔
پاکستانی مندوب نے کئی علاقوں میں امن و استحکام میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم شمال مشرقی خطے، خصوصاً واکاگا میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا جو سوڈان کے تنازعے کے اثرات کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار دراندازی، غیر قانونی نقل و حرکت اور انسانی دباؤ اس بات کے متقاضی ہیں کہ علاقائی سطح پر تعاون اور ہم آہنگی کو مزید فروغ دیا جائے۔پاکستانہ مندوب نے چاڈ اور دیگر ممالک کے ساتھ وسطی افریقی حکومت کی سرحدی نظم و نسق اور مویشیوں کی نقل و حرکت کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوششوں کی بھی حمایت کی۔
انہوں نے وسطی افیقی جمہوریہ اقوام متحدہ کے امن مشن (ایم آئی این یو ایس سی اے) کو ملک کے استحکام کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ مالی مشکلات کے باوجود اس مشن کو بھرپور مالی تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فخر ہے کہ اُس کے 1400 فوجی اہلکار اس امن مشن میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی افریقی جمہوریہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے سفر میں مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
ہم وسطی افریقی جمہوریہ اقوام متحدہ کے امن مشن (ایم آئی این یو ایس سی اے )کے اہم کردار کو سراہتے ہیں جو نہایت مشکل حالات میں شہریوں کے تحفظ، سیاسی عمل کی معاونت اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے سرگرم ہے۔ پاکستانی نمائندہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن مشن کی موجودگی امن عمل میں حاصل شدہ کامیابیوں کے تحفظ اور آئندہ ہونے والے انتخابات کے پُرامن انعقاد کے لیے ناگزیر ہے۔








