اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کھجور کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کے وفد کے ساتھ تفصیلی آن لائن اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزارت کے سینئر افسران بشمول وفاقی سیکریٹری امیر محی الدین نے شرکت کی جنہوں نے سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے ممکنہ پہلوئوں پر اپنے خیالات کا …
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرصدارت کھجور کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کیلئے متحدہ عرب امارات کے وفد کے ساتھ آن لائن اجلاس
اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کھجور کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کے وفد کے ساتھ تفصیلی آن لائن اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزارت کے سینئر افسران بشمول وفاقی سیکریٹری امیر محی الدین نے شرکت کی جنہوں نے سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے ممکنہ پہلوئوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے سیمیسولا نکولا ابیرے نے وفد کی نمائندگی کی جنہوں نے پائیدار زرعی ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کھجور کے شعبے میں پاکستان کی بے پناہ استعداد اجاگر کی اور کہا کہ پاکستان دنیا کے بڑے کھجور پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں سالانہ پیداوار پانچ لاکھ ٹن سے زائد ہے جو ایک لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر حاصل کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے پیداوار کے مراکز بلوچستان اور سندھ ہیں جہاں مشہور اقسام مثلاً عسیل، مزوتی، دھکی، ربی، بیگم جانگی، کربلا اور خضری کاشت کی جاتی ہیں۔ اجلاس میں پاکستان کی موجودہ برآمدی کارکردگی پر بھی غور کیا گیا جس میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کی کھجور کی برآمدات کے بڑے مراکز میں متحدہ عرب امارات، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا اور ترکیہ شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی کھجور برآمدات کی مالیت 50 ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور بین الاقوامی خریداروں میں تنوع اور برآمدی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رانا تنویر حسین نے کھجور کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا بھی ذکر کیا جن میں ماضی میں محدود منڈیوں پر انحصار، قدر میں اضافے کی کمی، معیار اور حفظان صحت کے بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کے مسائل، بعد از برداشت نقصانات اور پیکیجنگ، برانڈنگ و کولڈ چین سہولیات کی کمی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجود پاکستان کے پاس پیداوار اور برآمدات میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے جسے جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور جدت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے حکومت کے عزم کا اظہار کیا کہ ایسے اشتراکی منصوبے فروغ دیئے جائیں گے جو اس شعبے میں پراسیسنگ، پیکیجنگ اور مارکیٹنگ کے نظام کو بہتر بنائیں۔وفاقی سیکریٹری امیر محی الدین نے وزارت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ مجوزہ تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اشتراک جدید کھجور پراسیسنگ پلانٹس کے قیام، قدر میں اضافہ اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ سیکریٹری نے اجلاس کو وزارت کے جاری منصوبوں سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے ذریعے تحقیقی معاونت اور سندھ و بلوچستان کے خشک علاقوں میں پائلٹ پراجیکٹس کا قیام شامل ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اقسام کامیابی سے کاشت کی جا رہی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی نمائندہ سیمیسولا نکولا ابیرے نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان میں تین جدید کھجور پراسیسنگ پلانٹس کے قیام کے عمل کو تیز کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو جلد ایک یادداشت تفاہم (ایم او یو) کے ذریعے باضابطہ شکل دی جائے گی جو قدر میں اضافے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں بہتری سے متعلق مشترکہ منصوبوں کی بنیاد فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر نے متحدہ عرب امارات کی دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون حکومت پاکستان کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت ملک کو قدر میں اضافے پر مبنی زرعی معیشت کی طرف گامزن کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اشتراک سے پاکستان نہ صرف برآمدات میں اضافہ کر سکے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور کسانوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے منڈیوں میں تنوع، تحقیقی بنیادوں پر پیداوار اور خواتین و چھوٹے کاشتکاروں کی استعداد کار میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ یادداشت تفاہم پر دستخط کے فوراً بعد طے شدہ منصوبوں پر عمل درآمد کا آغاز کیا جائے گا۔
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ وزارت اور متحدہ عرب امارات کے مابین رابطہ کاری کا تسلسل سیکریٹری امیر محی الدین کے دفتر کے ذریعے برقرار رکھا جائے گا تاکہ بروقت فالو اپ اور سہولت کاری یقینی بنائی جا سکے۔ وفاقی وزیر نے اجلاس کے اختتام پر امید ظاہر کی کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ یہ مجوزہ تعاون دونوں برادر ممالک کے درمیان زرعی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔









